بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ بدھ (7 جنوری 2026ع) کے دن کہا: میں نکولس مادورو کے اغوا کے موقع پر فکرمند تھا کہ ایک بار پھر جمی کارٹر کے دور میں ایران پر حملے کا ناکام تجربہ کہیں دہرایا نہ جائے۔
جمی کارٹر 1980 کی دہائی کے آخر میں امریکی صدر تھے جنہوں نے ـ ایرانی طلبا کے ہاتھوں اپنی جاسوسی کے گھونسلے [نام نہاد سفارت خانے] کی تسخیر کے بعد ـ یرغمالیوں کی آزادی کے لئے ایران میں فضائی حملے کا حکم جاری کیا تھا، ایسی کاروائی جو ایرانیوں کی مداخلت کے بغیر ہی، شکست سے دوچار ہوئی۔
اس کاروائی کو امریکیوں نے "عقاب کا پنجہ" نام دیا تھا جس میں چھ امریکی طیارے اور آٹھ ہیلی کاپٹر ایران کی سرحدوں سے دراندازی کرکے آئے، لیکن طبس میں ریت کا ایک عظیم طوفان اٹھا جس میں تین ہیلی کاپٹر اور ایک طیارے کو شدید نقصان پہنچا اور کم از کم آٹھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اور امریکہ کو پسپا ہونا پڑا۔
امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) نے امریکہ کی فوجی شکست پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: "یہ اللہ کی طرف کی غیب سے آنے والی امدد تھی، اور یہ بے وقوفانہ مشق خدائے قادر کے حکم سے ناکام ہو گئی۔"
اب فرعون کی اداکاری کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ نے طبس کے واقعے کی یاددہانی کراتے ہوئے کہا: "اس واقعے نے "کارٹر کی پوری حکومت کو نیست و نابود کر دیا۔"
ٹرمپ نے ایک "شکست دوسرے واقعے" کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ "امریکہ کو افغانستان میں بھی بری شکست ہوئی اور ہمارے انخلاء کے موقع پر 13 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ