7 جنوری 2026 - 19:02
افغانستان: تخار میں سونا نکالنے کے دوران جھڑپ، 4 افراد ہلاک: طالبان کی تصدیق

افغانستان کے صوبہ تخار میں سونے کی کان کنی کے معاملے پر مقامی آبادی اور کان کنی کمپنی کے درمیان خونریز جھڑپ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے، جس کی طالبان حکام نے تصدیق کر دی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، طالبان کی وزارتِ داخلہ نے افغانستان کے صوبہ تخار کے ضلع چاہ آب میں مقامی مظاہرین اور ایک سونا نکالنے والی کمپنی کے ذمہ داران کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں چار افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع نے بتایا کہ اس ضلع کے علاقے سمتی میں مقامی لوگوں اور کان کنی کمپنی کے ملازمین کے درمیان جھڑپ کے دوران تین مقامی باشندے اور کمپنی کا ایک ملازم ہلاک ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جبکہ صورتحال کے پیشِ نظر کمپنی کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

ترجمان کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور قتل کے الزام میں سونا نکالنے والی کمپنی کے ایک سکیورٹی اہلکار اور ایک مقامی شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تاہم طالبان حکومت پر تنقید کرنے والے بعض ذرائع ابلاغ نے مقامی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز نے براہِ راست مظاہرین پر فائرنگ کی، جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار بھی مقامی لوگوں کے ہاتھوں مارا گیا۔

اطلاعات کے مطابق سمتی گاؤں کے رہائشیوں اور سونا نکالنے والی کمپنی کے درمیان تنازع چند روز قبل شروع ہوا تھا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ طالبان سے وابستہ کمپنیوں کی جانب سے بے تحاشا سونا نکالنے کے باعث آبی وسائل آلودہ ہو رہے ہیں، ماحول تباہ ہو رہا ہے اور پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہو چکی ہے۔

طالبان کی وزارتِ معادن و پٹرولیم نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صوبہ تخار کے گورنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی روانہ کی ہے، تاہم علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

واضح رہے کہ یہ سونے کی کان سال 2024 میں ایک چینی کمپنی کو دی گئی تھی، مگر غیر منظم اور بے قابو کان کنی کے باعث مقامی آبادی کی جانب سے بارہا احتجاج کیا گیا۔ اس دوران مظاہرین نے کمپنی کی بھاری مشینری کو نذرِ آتش کیا اور آمد و رفت کے راستے بھی بند کر دیے تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha