ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان سے ملنے والے شمالی وزیرستان کے علاقے گڑیوم میں جاسوس طیارے کے ذریعے ایک قبائلی محمد یعقوب کے مکان پر دو میزائل فائر کئے گئے۔ حملے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ذرائع کے مطابق دس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے اور مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جس مکان پر حملہ کیا گیا وہ پہلے مدرسے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور اس پر چار میزائل فائر کئے گئے۔رواں ماہ کے دوران شمالی وزیرستان میں کیا گیا یہ ساتواں میزائل حملہ ہے،جس علاقے کو نشانہ بنایا گیا وہ طالبان اور القاعدہ کا ایک اہم گڑھ بتایا جاتا ہے جو اس وقت پاکستانی فورسز کے گھیرے میں ہے۔سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بعض ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود حملے کے وقت اس علاقے میں موجود تھے اور ان کی ہلاکت کی متضاد اطلاعات مل رہی ہیں،جبکہ طالبان ذرائع نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔ وزیرستان،حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی اطلاعمیران شاہ:وزیرستان ایجنسی میں آج صبح ہونے والے ڈرون حملے میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔اس حملے مٰیں پندرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم طالبان ذرائع نے حکیم اللہ محسود کے مارے جانے کی تصدیق نہیں کی۔حکیم اللہ محسود نے بیت اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔حکیم اللہ محسود حکومت کے خلاف مختلف دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف تھے۔
شمالی وزیرستان ڈرون حملہ، 10ہلاک، حکیم اللہ محسود بچ گئے،طالبان ترجمان شمالی وزیرستان میں جاسوس طیارے سے کئے گئے ایک اور میزائل حملے میں دس افراد ہلاک ہوگئے ۔طالبان کے رہنما حکیم اللہ محسود حملے میں بچ گئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے شکتوئی میں جاسوس طیارے کے ذریعے ایک مکان اور ملحقہ مدرسے پر میزائل فائر کئے گئے۔ حملے میں کم از کم دس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے ۔مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کاخدشہ ہے۔طالبان کے ترجمان اعظم طارق نے ایک بیان میں کہا کہ حکیم اللہ محسود اور ان کے ساتھی حملے کا نشانہ بننے والے مکان میں موجود تھے لیکن حملے سے پہلے وہاں سے نکل گئے تھے اور اس وقت بالکل محفوظ ہیں ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مکان پر چار میزائل فائر کئے گئے ۔ رواں ماہ کے دوران شمالی وزیرستان میں کیا گیا یہ ساتواں میزائل حملہ ہے جس میں35 مبینہ شدت پسند مارے جاچکے ہیں۔ تازہ حملے میں جس علاقے کو ہدف بنایا گیا وہ طالبان اور القاعدہ کا ایک اہم گڑھ بتایا جاتا ہے جو اس وقت پاکستانی فورسز کے گھیرے میں ہے۔