اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق برطانوی حکومت نے چھ برس کی قانونی کشمکش کے بعد برطانوی مسلم رہنما چودھری معین الدین کو 1971ء کی بنگلادیش جنگِ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے غلط اور بے بنیاد الزامات کے عوض 2 لاکھ 25 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کیا اور سرکاری طور پر معذرت بھی کی۔
یہ الزامات ایک سرکاری ادارے کی رپورٹ کی بنیاد پر سامنے آئے تھے، جو وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرتا تھا۔ بعد ازاں عدالت میں یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ الزامات بغیر مکمل تحقیق کے شائع کیے گئے، جس سے مسلم برادری میں اسلام دشمنی اور حکومتی لاپرواہی پر شدید تشویش پائی گئی۔
چودھری معین الدین 1973ء سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور 1984ء میں انہیں برطانوی شہریت ملی۔ انہیں کبھی اپنے دفاع کا مؤثر قانونی موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ برطانیہ کی ہائی کورٹ نے 2024ء میں فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور بنگلادیش میں دی گئی غیر حاضرانہ سزا انصاف کے بنیادی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی اور سیاسی بنیادوں پر دی گئی تھی۔
چودھری معین الدین گزشتہ چار دہائیوں سے برطانیہ میں مسلم کمیونٹی کی سماجی، دینی اور تعلیمی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ وہ برٹین و آئرلینڈ کی مساجد کی کونسل کے سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں، برطانوی مسلم کونسل کے بانی ارکان میں شامل ہیں، جبکہ نیشنل ہیلتھ سروس میں روحانی خدمات کے نگران کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی، تعلیم اور سماجی اتحاد کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ