15 جون 2009 - 19:30

پشاور کے حساس علاقے جیل روڈ پر خود کش دھماکے میں 10افراد جاں بحق اور 47زخمی ہوگئے ہیں جائے وقوعہ سے خود کش حملہ آور کا سر مل گیا ہے ۔

سینٹرل جیل پشاور، سول سیکرٹریٹ اور ایم پی ایز ہاسٹل کے سنگم پر سیشن کورٹ کے میں گیٹ پر ساڑھے بارہ بجے کے قریب زور دار دھماکا ہوا۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ڈی ایس پی تنویر نے بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور نے رکشے سے اتر کر ، سیشن کورٹ کے گیٹ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خود کش حملہ آور کا سر مل گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکا خیز مواد 6سے 7کلوگرام وزنی تھا، جائے وقوعہ سے خودکش جیکٹ کے بعض حصے ، نٹ بولٹس اور بیرنگ وغیر ہ ملے ہیں اور اس کا ممکنہ ہدف سیشن کورٹ ہی تھا، دھماکے سے متعدد گاڑیوں کو آگ لگ گئی ۔سیشن کورٹ کے باہر جس جگہ دھماکاہوا اس کے سامنے پشاور سینٹرل جیل، سول سیکرٹریٹ ، ایم پی ایز ہاسٹل اور گورنر ہاؤس کی عمارت بھی ہے ۔سیشن کورٹ بم دھماکے کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ دھماکے میں جاں بحق چھ افراد کی لاشیں لائی گئیں جبکہ چار نے اسپتال میں دم توڑدیا۔دھماکے کے فورا بعد مختلف فلاحی اداروں کی ایمبولینسوں میں زخمیو ں کو اسپتال لانے کا کام شروع کر دیا گیا ۔ چار شدید زخمی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گئے۔ جبکہ47 زخمی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان میں سے دو کی حالت نازک ہے۔ جاں بحق افراد میں دو پولیس اہل کار بھی شامل ہیں جبکہ دو افراد کا تعلق پشاور کے ایک ہی خاندان سے ہے۔ زخمیوں میں تین خواتین اور تین وکلا شامل ہیں۔صوبائی وزرا بشیر احمد بلور ، میاں افتخار حسین اور عاقل شاہ نے لیڈی ریڈنگ اسپتال کا دورہ کیا اور دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی۔ میاں افتخار حسین نے دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ضروری ہے ۔اسپتال ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں سے ایک شخص کی شناخت نہیں ہو سکی۔ جاں بحق افراد میں سے پانچ کا تعلق پشاور ، دو کا مردان جبکہ دو کا چارسدہ اور بنوں سے ہے۔دھماکے کے تین زخمیوں کو خیبر ٹیچنگ اسپتال بھی منتقل کیا گیا جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔