علی اصغرسلطانیہ نے آئی اے ای اے میں ایران کےخلاف قرارداد منظور ہونے کےبعدصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد سے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہيں پڑے گا تاہم تعاون کا ماحول خراب ہوجائے گا۔علی اصغر سلطانیہ نے مغربی ملکوں کو نصیحت کی کہ وہ محاذ آرائی کی بجائے ایران کے ساتھ تعاون کریں۔درایں اثنا پارلیمنٹ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے رکن محمدکرمی راد نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ ایران کے خلاف ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی سیاسی اورغیر قانونی قرارداد کی بناپر این پی ٹی سے نکلنے کا جائزہ لے سکتی ہے۔محمدکرمی راد نے سنیچر کو ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ پارلیمنٹ آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کو ایران میں داخل ہونے سے روک سکتی ہے ۔کرمی راد نے کہا کہ عالمی ادارے اپنی ذمہ داریوں پر صحیح طرح سے عمل نہيں کرسکے اور آئي اے ایی اے عالمی صہیونزم اور سامراجی طاقتوں کے زیر اثر اورناکارہ ہے۔انھوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کے لئے بالکل واضح ہے کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام میں کوئي انحراف نہيں ہے اور تہران اپنے ایٹمی پروگرام کوجاری رکھنے کے سلسلے میں پہلے سے زیادہ پرعزم ہے۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 173323
ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں ایران کے نمائندے علی اصغرسلطانیہ نے کہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔