امام ڈھیرئی پر گولہ باری کے بعد عسکریت پسندوں کو پیوچار بھاگنے پر مجبور کر دیا گیا تاہم پیوچار میں آپریشن سے قبل ہی سرحد حکومت نے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا اور آپریشن نہیں ہو سکا۔چند ماہ بعد امن معاہدے کے خاتمے پر آپریشن کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ لیکن کچھ ہی عرصہ گزرنے پر کالعدم تحریک نفاذ شریعت سے دوبارہ معاہدہ طہ پا گیا اور آپریشن روکنا پڑا۔اس قدم کے بعد بھی عسکریت پسند اپنی کارروائیوں سے باز نہ آئے۔ بالاآخر پانچ مئی دو ہزار نو کو صوبائی حکومت کی ہدایت پرسیکورٹی فورسز نے فیصلہ کن آپریشن کیا اور جولائی تک سوات میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔سوات میں ستائس خودکش حملے، سینکڑوں بم دھماکے اور متعدد جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ یہاں تین ہزار بے گناہ لوگوں اور پاک فوج کے پانچ سو اور پولیس کے تین سو سے زائد اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔سینکڑوں اسکول، رابطہ پل، سرکاری عمارتیں اور ہزاروں مکانات بھی تباہ ہوئے جس سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔ انہیں قربانیوں کی بدولت آج دوبارہ سوات پاکستان کا محفوظ اور پْر امن علاقہ قرار دیا جارہا ہے۔قربانیوں کی وجہ سے امن تو قائم ہوگیا لیکن آج تک اس بات کا پتہ نہیں چل سکا کہ یہاں عسکریت پسندی کے محرکات کیا تھے۔ مستقل امن کیلئے ضروری ہے کہ شر پسندوں کی بیخ کنی کی جائے اور اصل محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔
___
امن بھی چنداں قائم نہیں ہوا کیونکہ تمام کمانڈر زندہ سلامت ہیں اور قوم و ملک کا مذاق اڑارہے ہیں اور دوبارہ آنے کے لئے لمحہ شماری کررہے ہیں پشاور اور اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی ہیں اور بہت اہم اور حساس مقامات پر موجود ہیں چنانچہ اسلام آباد میں اور ملک کے دیگر علاقوں میں تمام سیکورٹی اداروں کے اندر بھی آپریشن کرنے کی ضرورت ہے اور یہ آپریشن ہی کامیابی کی شرط اول اور فتح کی کنجی ہے.