15 جون 2009 - 19:30

ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو ایران اسرائیل کے شہر تل ابیب پر حملہ کر دے گا / ایران آج سے بڑے پیمانے پر فضائی مشقوں کا آغاز کررہا ہے۔

ایرانی انقلابی گارڈز کے رہنما مجتبیٰ ذوالنور نے کہا ہے کہ اگر ان کے ملک پر حملے کیا گیا تو اس کے جواب میں تہران اسرائیل کے شہرتل ابیب پرمیزائلوں سے حملے کرے گا۔یہ بات انہوں نے اپنی ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کے لیے ہونے والی پانچ روزہ فضائی مشقوں کے دوران کہی۔

دریں اثناء موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران آج سے بڑے پیمانے پر فضائی مشقوں کا آغاز کررہا ہے جس کا مقصد جوہری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ان فضائی مشقوں کا ایک مقصد جوہری تنصیبات کی نگرانی کے نظام کو موثر بنانا بھی ہے۔ فضائی مشقیں پانچ روز تک جاری رہیں گی۔ جس میں ایران کے انقلابی گارڈزاور آرمی حصہ لے گی۔ ائیرفورس جنرل احمد مغانی نے بتایا کہ مشقیں وسطی، مغربی اور جنوبی ایران کے 230 ہزار اسکوائرمیل کے رقبے پر کی جائیں گی۔مشق کی ابتدا فرضی فضائی حملے سے کی جائے گی، جس کے تحت دشمن طیارے نے ایران کی حدود کی خلاف ورزی کی، راڈار سسٹم کو جام کیا، جوہری تنصیبات کی تصاویر بنائیں اور نشانہ بنایا۔ فضائی مشقوں میں روسی ساختہ اینٹی ایرکرافٹ میزائل سسٹم کو بھی شامل کیا گیا ہے تاہم ایس 300 میزائل کی فراہمی روس کی جانب سے ایران کو اب تک ممکن نہیں ہوسکی۔ ہفتے کوسپریم لیڈر کے نمائندے مجتبیٰ ذوالنور نے سرکاری خبرایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دشمن نے ایران کو نشانہ بنایا تو فوری جوابی کارروائی کی جائے گی۔ اسرائیل کی جانب سے اب تک ایران کی فضائی مشقوں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔