فورٹ ہود میں قتل عام
عراق اور افغانستان کی جنگوں کے خلاف احتجاج
امریکا کی ریاست ٹیکساس میں واقع امریکی فوجیوں کے اڈے فورٹ ہوڈ میں ایک امریکی افسر کے ہاتھوں ہونے والا قتل عام کا واقعہ امریکہ کی فوج میں ایک زلزلے کے مترادف ہے ۔ اس سے عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بارے میں امریکہ کے فوجیوں کی ناراضگی کا پتہ چلتا ہے۔ امریکہ کے فوجی افسر میجر نضال ملک حسن نے فورٹ ہوڈ کے فوجی اڈے میں اپنے ساتھیوں پر حملہ کر کے تیرہ فوجی افسروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا۔ نضال ملک حسن کا یہ اقدام عراق اور افغانستان کی جنگوں کے خلاف شدید ترین احتجاج شمار ہوتا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اس واقعے کو جنگی محاذوں پر امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں سے بڑا سانحہ قرار دیا ہے ۔
اگر اس واقعے کا بنظر غائر جائزہ لیا جاۓ تو اس کی جڑيں عراق اور افغانستان کی جنگوں کے خلاف امریکہ کے اندر بڑھتے ہوۓ اعتراضات میں پیوست نظر آتی ہیں۔ امریکہ سن دو ہزار ایک کے بعد سے بہت زیادہ اخراجات والی عراق اور افغانستان کی دو لاحاصل جنگوں میں الجھا ہوا ہے۔ ان جنگوں میں تقریبا پانچ ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد پچاس ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے ۔ امریکہ نے اپنی تاریخ میں اب تک جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں ان میں عراق اور افغانستان کی جنگیں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے اعتبار سے بھی اور جنگی اخراجات کے لحاظ سے بھی سرفہرست ہیں۔ اور یہ سب ایسی حالت میں ہے کہ جب امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر بننے کی صورت میں جارج بش سے ورثے میں ملنے والی ان جنگوں کو بند کرا دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اب افغانستان میں مزید چالیس ہزار امریکی فوجی بھیجنے کے منصوبے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس لۓ اگر امریکہ کا کوئي فوجی افسر افغانستان میں اپنی تعیناتی کے خلاف احتجاج کرتے ہوۓ اسلحہ اٹھا کر اپنے ہی ساتھیوں کا قتل عام کردے تو یہ کوئي تعجب انگیز بات نہیں ہے ۔اس سلسلے کی اہم بات یہ ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے طویل ہوجانے کی صورت میں نہ صرف ان ملکوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ امریکہ کی سرزمین میں بھی زیادہ تعداد میں امریکی فوجی مارے جائیں گے۔
فائرنگ کرنےوالے امریکی میجرکوذہنی اذیتوں کاسامناتھا
امریکی ریاست ٹیکساس میں فورٹ ہوڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرنےوالے فوجی افسر کے ایک رشتہ دار نے کہا ہے کہ اس فوجی کو اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک اور تعصب کا سامناتھا۔فائرنگ کرنےوالے فوجی میجر نضال مالک حسن کے رشتہ دار محمدحسن نے سی ان ان کو انٹرویوکے دوران نضال حسن کی جانب سے فوج سےمستعفی ہونے کی درخواست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نضال کو ایک مسلمان اورعرب نژاد ہونے کی وجہ سے مسلسل نسلی امتیاز، بدسلوکی اور توہین کا سامنا تھااوراس سلسلے میں انھیں شکایت تھی اوروہ اس صورت حال کے پیش نظرذہنی کرب میں مبتلاتھے ۔محمد حسن نے فوجی اڈے پر میجر نضال کے نمازپڑھنےاورعرب لباس پہننے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے امریکی فوج انھیں افغانستان بھیجنا چاہتی تھی۔
ٹیکساس میں فوجی اڈے پر فائرنگ ‘‘ امریکی ذرائع ابلاغ نے میجر ملک حسن کو اسلامی شدت پسند قرار دیدیا
امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجی اڈے پر فائرنگ کرنے والے مسلمان میجر نضال ملک حسن کو امریکی ذرائع ابلاغ نے اسلامی شدت پسند قرار دے دیا ہے ۔ فورت ہڈبیس کے ترجمان لیفٹیننٹ باب کون نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوجی اڈے پر حملہ کرنے والے میجر ملک حسن نے اللہ اکبرکا نعرہ لگا کر فوجیوں پر فائرنگ کی ۔ امریکی ٹی وی کا کہنا ہے کہ واقعہ سے پہلے حسن نے کلین میں واقع اپنے اپارٹمنٹ کے مکینوں میں قرآن پاک کے نسخے تقسیم کیے تھے ۔ا مریکی صدر بارک اوبامہ نے اس موقع پر 11 نومبر تک وفاقی عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا ہے ۔ دوسری جانب فورڈ ہڈ بیس پر کام کرنے والے میجر حسن کے ساتھی فوجی کاکہنا ہے کہ انہوں نے حسن میں شدت پسندی کارحجان کبھی محسوس نہیں کیا اوروہ ایک ملنسار آدمی ہیں
امریکی میجر کا خونی احتجاج
امریکہ کی جنوبی ریاست ٹیکساس کے ایک فوجی شہر" فورٹ ہوڈ" میں امریکی فوج کے ایک میجر نے خونی ڈرامہ رچاکر دنیا پر امریکہ کی طرف سے جنگ مسلط کرنے پر نئے طرز کا احتجاج ریکارڈ کرایا. 39 سالہ میجر "نضال ملک حسن" اردنی فلسطینی والدین کا بیٹا شمال مشرقی ریاست ورجینیا میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا۔ وہ نفسیات کا ڈاکٹر ہے، جو ماردھاڑ کی امریکی مہموں سے واپس آنے والے فوجیوں کا نفسیاتی علاج کیا کرتا تھا۔
عراق اور افغانستان سے واپس آنے والے ان امریکی فوجیوں کی کہانیاں سن سن کر نضال حسن خود بھی ذہنی مریض بن گیا تھا وہ اپنے ساتھیوں کے اخلاق سے گرے ہوئے روّیوں پر بھی شاکی تھا۔ ویسے بھی نضال کو مذہبی، اور نسلی تعصب کا اس قدر سامنا کرنا پڑا تھا یہاں تک کہ اس نے تنگ آکر ایک وکیل کی خدمات حاصل کیں، جو اسے فوج سے چھٹکارا دلانے میں مدد کررہا تھا۔ چونکہ اس کے تعلیمی اخراجات امریکی فوج نے اٹھائے تھے، ان کی ادائیگی کے بغیر وہ فوج چھوڑنے سے قاصر تھا، اور اس طرح وہ اپنے ضمیر اور ذہن کا قیدی بن کر رہ گیا تھا۔ ان ہی حالات میں اس نے سنا کہ اسے افغانستان میں خدمات انجام دینی ہیں.
میجر حسن، اس خبر کو پا کر اپنے آپ میں نہ رہا۔ اس کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ اس کی زندگی اسی خوف میں گزررہی تھی کہ کہیں اسے دور دراز مار دھاڑ کے محاذوں پر نہ بھیج دیا جائے، ورنہ دیگر معاملات میں وہ ایک مکمل عام امریکی شہری تھا جو اپنی زندگی امن و چین سے گزاررہا تھا۔ چنانچہ فورٹ ہوڈ میں ان امریکیوں کے درمیان رہتے ہوئے جو اگلے محاذوں پر جانے کی آخری تیاریوں میں مصروف تھے، اس کا دماغ چل نکلا، اور اس نے دو عدد پستولوں کی مدد سے فائرنگ کر ڈالی جس سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ اس ہل چل اور افرا تفری میں دیگر افراد نے بھی گھبراکر فائرنگ شروع کردی، اور فی الوقت یہ تعین نہیں ہوسکا ہے کہ کتنے افراد حسن کے ہاتھوں اور کتنے دوستانہ فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
یہ ہلاک شدگان اور زخمی افراد کے زخموں کی جانچ کے بعد ہی پتہ چل سکے گا۔ کیونکہ عام طور پر امریکی فوجی استعمال میں پستولوں میں ایک میگزین میں 14 گولیاں ہوتی ہیں، اس طرح نضال کے لیے بیک وقت 28سے زائد فائر کرنا دشوار تھا، جب کہ کم از کم 41افراد گھائل ہوئے ۔ان سطور کے تحریر کرنے تک 13 افراد ہلاک ہوچکے، اور28 زخمی تھے۔
اس واقعہ کے بعد امریکہ میں ایک نئے غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی، اور مختلف اخبارات میں قارئین نے اپنے اپنے اسلام مخالف جذبات کا اظہار شروع کردیا۔ ایک بڑی تعداد کے خیال میں نضال حسن ایک جہادی شخص ثابت ہوا، اور ان کے مطابق اسلام ایک ایسا دین ہے جو کہ دیگر مذاہب کے مانے والوں کو ختم کردینے کی ترغیب دیتا ہے۔
اگرچہ امریکہ میں یہ اس قسم کا کوئی پہلا واقعہ نہیں جہاں کسی شخص نے ذہنی عدم توازن ، شدت پسندی کی وجہ سے متعدد لوگوں کو قتل کردیا ہو۔ مگر اس مرتبہ ایسے واقعہ کا ایک محفوظ فوجی اڈّے میں وقوع پذیر ہونا امریکی عوام اور حکام سے ہضم نہیں ہورہا۔
فورٹ ہوڈ 1942ءمیں قائم ہونے والا امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈا ہے، اور یہاں بیک وقت 70 ہزار افراد رہ سکتے ہیں۔ کئی سو مربع کلو میٹر پر محیط اس اڈے میں ٹریننگ، قیام، اور تفریح وغیرہ کی تمام تر سہولیات موجود ہیں۔ سابق امریکی صدر جارج بش کا ذاتی فارم بھی قریب ہی واقع ہے۔ چنانچہ اس واقعہ کی علامتی حیثیت بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس واقعہ پر رنجیدہ افراد اپنا غصہ صدر اوباما پر بھی نکال رہے ہیں، اور یہ الزام لگارہے ہیں کہ اوباما کی جڑیں چونکہ اسلام میں پیوستہ ہیں [ کیونکہ ان کے والد مسلم تھے، حالانکہ اوباما عیسائی ہیں] چنانچہ ان کا روّیہ اسلام کے ساتھ ہمدردانہ ہے، اور حالیہ واقعہ اسی نرمی کا نتیجہ ہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ ابھی جب کہ امریکی میڈیا اس خطرناک واقعہ کے بارے میں پروگرام پر پروگرام اور تفصیلات بیان کررہا تھا، جمعہ کے روز ایک اور جنوبی ریاست فلوریڈا کے مشہور شہر اورلانڈو میں ایک عیسائی گورے امریکی نے اپنی کمپنی کے خلاف غصہ نکالتے ہوئے فائرنگ کرڈالی، اور اس میں بھی دو افراد کی