15 جون 2009 - 19:30

شام نے ترکی کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجیں مشقیں منسوخ کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئےکہا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کرے گا۔

شام کے تاریخی شہرحلب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شام کے وزیر خارجہ ولیدالمعلم نے ترکی اسرائیل کے فوجی مشقوں کی منسوخی کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم ترکی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور یہ ترکی کاغزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف ترکی کے موقف کا بھی عکاس ہے۔حلب میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ترکی کے دس اور شام کے پندرہ وزرا نے شرکت کی ہے اور اس میں توانائی اور بجلی کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق 2003 میں رجب طیب اردوگان کے برسراقتدارآنے کے بعد سے ترکی کے ایران اور حماس کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے جبکہ دوسری جانب اس کے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات بتدریج سردمہری کا شکار ہوئے ہیں۔ اسرائيل کے ساتھ فوجی مشقوں کی منسوخی کے ترکی کے جرئتمندانہ فیصلے پر ایران، شام اور حزب اللہ لبنان نے ترکی کی تعریف و تمجید کی ہے اور عرب ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ترکی کے اقدامات کو اپنے لئے نمونہ عمل قراردیں۔