15 جون 2009 - 19:30

امریکہ اور عرب ممالک نے اہل تشیع کے خلاف یمنی حکمرانوں کی جارحیت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک میں امریکی اور عرب ممالک کے حکام کے مذاکرات کے بعد ایسوشیٹد پریس نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن، اور ان کے سعودی، کویتی، بحرینی، قطری، اماراتی، عمانی، عراقی، مصری اور اردنی ہم منصبوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا.

اس اعلامئے میں یمن کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ وزراء خارجہ نے ـ بقول ان کے ـ یمن میں امن و استحکام کے سلسلے میں (تاحیات) یمنی صدر «علی عبداللہ صالح» کے اقدامات کی مکمل حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ یمن میں مذاکرات کے لئے کوشش کریں گے.

اس اعلامئے میں کہا گیا ہے: وزراء خارجہ سول آبادیوں اور امدادی کارکنوں کے لئے پرامن فضا پر تأکید کرتے ہوئے سول آبادی کے لئے ہنگامی امداد پہنچانے کے لئے پرامن گذرگاہ کی ضرورت پر زور دیتے ہیں.

یادرہے کہ یمنی حکومت نے 11 اگست سے یمن کے زیدی اہل تشیع کے خلاف جلے ہوئے زمین (Burnt Earth) کی کاروائیوں کا آغاز کیا ہے جس میں سول آبادیوں اور پناہ گزین کیمپوں کو خاص طور پر نشانہ بناکر سینکڑوں بے گناہ افراد کو شہید کیا گیا ہے اور لاکھوں افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں.

یمنی حکومت اہل تشیع کو زیدی حکومت کے احیاء کا الزام لگاکر نشانہ بنا رہی ہے جبکہ اہل تشیع اپنے خلاف جارحیت کے مقابلے میں سول آبادیوں کا دفاع کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے خلاف امتیازی سلوک بند کرے اور شیعہ آبادیوں کو مزید غربت و افلاس میں دھکیلنے کے سلسلے میں اپنے وحشیانہ اور غیر انسانی اقد امات سے باز آئے.