19 دسمبر 2020 - 08:29
جموں و کشمیر میں جبری شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل کا منصوبہ ناقابل قبول

جموں و کشمیر میں جبری طور پر شیعہ وقف بورڈ تشکیل دینے کے حکومتی منصوبے کے خلاف شدیدی رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وادی کی شیعہ برادری نے اس جبری اقدام کو دینی معاملات میں بد ترین مداخلت قرار دیا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جموں و کشمیر میں جبری طور پر شیعہ وقف بورڈ تشکیل دینے کے حکومتی منصوبے کے خلاف شدیدی رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وادی کی شیعہ برادری نے اس جبری اقدام کو دینی معاملات میں بد ترین مداخلت قرار دیا وادی کے اطراف و اکناف میں شیعیان کشمیر کے درجنوں جمعہ اجتماعات کے مراکز پر حکومتی منصوبے کے خلاف صداے احتجاج بلند کیا گیا اس موقعہ پر ائمہ جمعہ نے موقوفات سے متعلق فقہ جعفریہؑ کے نقطہ نگاہ اور شرعی حثیت اور ضوابط و شرائط کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا کہ موقوفات کی تولیت اور انتظام و انصرام کے معاملے میں شریعت نے جو رہنما خطوط مرتب کئے ہیں ان حدود اور قیود سے رو گردانی کی کوئی گنجائش نہیں ائمہ جمعہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ فقہ جعفریہؑ میں اسلامی موقوفات کو کسی غیر مسلم حکومت کی تحویل و نظامت میں دینا فعل حرام اور ممنوع عمل ہے اور اگر کوئی اس معاملے میں جبری اقدام کرتا ہے تو احتجاج و مزاحمت ایک شرعی فریضہ بن جاتا ہے جمعہ اجتماعات کے موقعہ پر عوام کی طرف سے ایک احتجاجی قرار داد پاس کی گئی انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے مرکزی امام باڑہ بڈگام، حجۃ الاسلام سید یوسف الموسوی  نے امام باڑہ گامدو، حجۃ الاسلام سید محمد حسین موسوی نے آستان شریف چاڈورہ، حجۃ الاسلام سید عابد رضوی نے امام زمانہ ؑ مسجد آبی گزر، حجۃ الاسلام سید عابد حسینی نے قدیمی امام باڑہ حسن آباد، حجۃ الاسلام آغا سید محمد عقیل موسوی نے امام باڑہ چھتر گام،حجۃ الاسلام سید محمد صفوی نے امام باڑہ یاگی پورہ ماگام،حجۃ الاسلام حکیم سجاد نے امام باڑہ اسکندر پورہ،حجۃ الاسلام سید محمد حسین نے سونہ پاہ، حجۃ الاسلام بشیر احمد ذادو نے امام باڑہ نوگام، حجۃ الاسلام سید محمد حسین نے  امام باڑہ سوٹھ کٹر باغ، حجۃ الاسلام محبوب الحسن نے امام باڑہ صوفی پورہ پہلگام، مولوی سید مصطفی موسوی نے امام باڑہ پونچھ گنڈاورشریف الدین بھٹی نے  اوڑی کمل کورٹ میں اس مذموم جبری منصوبے کے خلاف عوامی احتجاج کی سرپرستی کی اور موقوفات کے حوالے سے فقہ جعفریہؑ کے نقطہ نگاہ کی تفصیل بیان کی۔

عوام کی طرف سے پاس کردہ قرداد میں کہا گیا؛

1۔ شیعیان کشمیر اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ از روئے فقہ جعفریہ وقف کے اصول و ضوابط اور شرائط کی مکمل پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کی جائے گی جوفقہ جعفریہ کے مطابق وقف کے شرعی تقاضوں سےمتصادم ہو۔

2۔ شیعیان کشمیر اس جبری اقدام کو دینی معاملات میں بدترین مداخلت تصور کرتے ہوئے یہ عہد دہراتے ہیں کہ وہ اپنے شرعی معاملات اور امورات میں بے جا مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔

3۔شیعیان کشمیر اپنے موقوفات کے معاملے میں غیر ریاستی زرخرید مولوی کی دخل اندازی کو ایک گھناونے سیاسی ایجنڈے کی کڑی اور شیعیان کشمیر کی حالت پر مگرمچھ کے آنسو بہانے کو یہاں کے روایتی اتحاد بین المسلمین کو زک پہنچانے کی مذموم سازش تصور کرتے ہیں بلکہ شیعیان کشمیر کے درمیان رنجش اور غلط فہمیاں پیدا کر کے مذموم عزائم کی تکمیل کی سعی ناکام قرار دیتے ہیں۔

4۔شیعیان کشمیر اس زرخرید مولوی کی شیعیان کشمیر سے سازشی ہمدردی کے پس پردہ شرانگیز مقاصد کو بقول شہید مرتضیٰ مطہری بکریوں کے حق میں بھیڑیوں کا جلوس تصور کرتے ہیں۔

5۔ شیعیان کشمیر اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ مذکورہ مولوی اپنے آقاؤں کا آشرواد حاصل کرنے کے لئے کشمیر میں جو کھیل کھیل رہا ہے اور شیعیان کشمیر کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتا ہے مولانا کے ان عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

6۔  شیعیان کشمیر مذکورہ جبری اقدام کو دینی مقدسات کے تقدس کی پامالی اور انکی اعتباریت و عظمت کو ثبوتاژ کرنے کا پیش خیمہ تصور کرتے ہیں۔ جسکا مشاہدہ لکھنو میں قدیم تاریخی امام باڑوں اور خانہ قاہوں کو دیکھ کر کیا جا سکتاہے۔







press 18-12-2020.png
 

2 Attachments