22 نومبر 2020 - 14:27
انگریزی شیعہ کون ہیں؟ انیسویں قسط

جب انٹیلجنس سروس کا مسٹر جیکاک سید جیکاک بن کر صاحب کشف و کرامات بن سکتا ہے اور علاقے کے بعض ممالک میں انگریز جاسوس مولوی اور مفتی بن کر وقت کی حکومت کو کافر قرار دے کر عوامی بغاوت کے اسباب فراہم کر سکتا ہے، تو پھر اس میں کیا تعجب ہے کہ انگریزی مکتب کے شیعہ بیٹھ کر ملکہ برطانیہ کے لئے شجرہ نسب تیار کریں اور اس کو سیدہ اور بنی ہاشم کی پوتی ثابت کرنے کی کوشش کریں!!!

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جس وقت آیت اللہ العظمی میرزا سید محمد حسن شیرازی نے انگریزوں کی ٹوبیکو کمپنی کے قضیئے میں تنباکو کا استعمال حرام کرکے انگریزوں کی ناک خاک پر رگڑ لی؛ اور امام روح اللہ خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے بقول "میرزائے شیرازی رضوان اللہ تعالی علیہ کی اسی آدھی سطر نے ہمارے ملک کو اجنبیوں کے حَلقُوم سے خارج کر دیا"۔
بہرحال آیت اللہ العظمی شیرازی کے فتوے کے نتیجے میں انگریزوں کی شکست فاش کے بعد سے وزارت نو آبادیات [موجودہ MI6] نے "لندنی مولوی" پالنے کے منصوبے پر کام شروع کیا اور آج یہ سلسلہ چلتے چلتے " لندنی مرجع" کے نقطے تک پہنچ چکا ہے۔
شیعہ مکتب عاشورا، مرجعیت، ولایت فقیہ اور انتظار امام مہدی کی برکت سے زندہ اور پائندہ ہے اور ہمیں ان سب کی ضرورت ہے اور یہ سب ہمارے پاس ہیں، لیکن یہ سب بوڑھے سامراج اور نئے سامراج یعنی امریکہ اور برطانیہ کے پاس نہیں ہیں چنانچہ وہ جعل سازی کے راستے پر گامزن ہوکر جعلی مبلغ، جعلی مولوی اور جعلی مرجع بنانے پر اتر آتے ہیں، انہیں ایسا مرجع چاہئے جو خارجی پالیسی میں ان کا ہاتھ بٹائے، امریکہ اور برطانیہ کے ہاتھوں مسلم ممالک پر قبضے کی مخالفت نہ کرے، دہشت گردی کے مقابلے میں مظلوم مسلم اقوام کی حمایت نہ کرے بلکہ خرافات کو دفاع اور جہاد کے متبادل کے طور پر پیش کرے، "عَلَم کو زمین پر گرا رہنے دو اور امریکی ساختہ تلواریں اپنے سر پر دے مارو"، فلسطین پر جعلی یہودی ریاست کے قبضے کو نظرانداز کرے۔ انسانیت ساز مکتب عاشورا سے قمہ زنی اور زنجیر زنی سے متعلق تمام امور کو چھوڑ کر اس سے خودزنی اور اپنا خون گرانے کا مطلب لیا کرے، بجائے اس کے کہ علمی انداز سے مکتب کا دفاع کرے اور مکتب کے لئے نظریں فراہم کرے، گالی گلوچ اور توہین و بےحرمتی کے ذریعے دوسروں کی دل آزاری کو مقصد تبلیغ گردانے، ایسا مرجع نہ تو استکبار اور آمریت و استبدادیت کے لئے خطرناک نہیں ہے بلکہ امریکہ اور برطانوی ان کے لئے لندن، واشنگٹن اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں ان کے دفاتر کھلوا دیتے ہیں اور ان کی حفاظت کرواتے ہیں، جبکہ ان ممالک میں تشیع کی دشمنی ایک اعلانیہ رجحان ہے۔
جب انٹیلجنس سروس کا مسٹر جیکاک سید جیکاک بن کر صاحب کشف و کرامات بن سکتا ہے اور علاقے کے بعض ممالک میں انگریز جاسوس مولوی اور مفتی بن کر وقت کی حکومت کو کافر قرار دے کر عوامی بغاوت کے اسباب فراہم کر سکتا ہے، تو پھر اس میں کیا تعجب ہے کہ انگریزی مکتب کے شیعہ بیٹھ کر ملکہ برطانیہ کے لئے شجرہ نسب تیار کریں اور اس کو سیدہ اور بنی ہاشم کی پوتی ثابت کرنے کی کوشش کریں!!!
خطے میں برطانیہ کی ناک خاک پر رگڑی گئی ہے چنانچہ وہ تلافی کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں، لندن میں ایرانی سفارتخانے پر حملہ ایک احمقانہ اور ذیلانہ منظرنامے کا حصہ تھا جس نے شیرازی فرقے کو فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ اس کے چہرے سے نقاب اتارا اور جو اس فرقے کی حقیقت نہیں جانتے تھے، وہ بھی اب پوچھنے لگے ہیں کہ برطانیہ تو تشیع اور اسلام کا دشمن ہے پھر شیرازی فرقے کے ساتھ اس کے تعلقات ایک ہی خاندان کے افراد کی مانند کیوں ہیں؟
ایم آئی6 کے کرتے دھرتے شاید ابھی تک دوسری عالمی جنگ کے بعد کے ایام میں جی رہے ہیں جبکہ سید جیکاک اور اس جیسے دوسرے مکار جاسوسوں کا دور گذرچکا ہے، شیعہ نوجوان واقعی ہوشیار ہیں وہ استکباری طاقتوں کے ہتھکنڈوں کو جانتے ہیں اور ان کے دھوکے میں نہیں آتے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو اسد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲