29 اگست 2016 - 06:57
بروجردی: آیت اللہ سیستانی نے امریکی ـ سعودی سازش کو احسن طریقے سے نپٹایا

پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی کے سربراہ، علاء الدین بروجردی نے کہا: عراق میں جاری جنگ کو مذہبی رنگ دینا، امریکی اور سعودی سازش ہے اور آیت اللہ سیستانی نے اس سازش کو بخوبی نپٹایا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق، عراق کی النُجباء اسلامی مزاحمت تحریک کے سربراہ نے کل بروز اتوار بوقت شام، مجلس شورائے اسلامی کے کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کے سربراہ، ڈاکٹر علاء الدین بروجردی سے ملاقات اور بات چیت کی اور اس موقع پر بروجردی نے عراق کی معاصر تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حالیہ برس، عراقی باشندوں کے لئے بہت مشکل سال تھے۔ عراقی عوام کو ایک طویل بحرانی دور سے گذرنے کے بعد تعمیر نو کی ضرورت تھی، لیکن امریکی افواج نے عراق پر قبضہ کیا اور قابض افواج نے وہاں کے لاکھوں باشندوں کا قتل عام کیا۔ 

ڈاکٹر علاء الدین بروجردی نے کہا: عراق کے لئے یہ حقیقت فخر و اعزاز ہے کہ قابض افواج عراق پر قبضے کے بعد یہاں ٹھک کر نہیں رہ سکیں، حالانکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد، امریکہ جس ملک میں بھی داخل ہوا، وہاں ہمیشہ کے لئے بسیرا کرکے بیٹھ گیا، اور جاپان، جنوبی کوریا اور افغانستان جیسے ممالک نے قابض افواج کے لئے قانونی استثنیٰ قبول کرنے کی ذلت قبول کرلی۔
انھوں نے امریکہ کے مقابلے میں عراقی عوام کی مزاحمت اور استقامت کو سراہتے ہوئے کہا: عراقی حکومت اور پارلیمان نے بھی امریکی تقاضوں کا مثبت جواب نہیں دیا اور امریکی افواج کو آخر کار عراق سے نکلنا پڑا۔ یہ واقعہ عراقیوں کے لئے ایک اعزاز ہے، اگرچہ امریکہ نے اپنی سازشوں کی تسلسل میں عراق میں دہشت گردوں کی حمایت کی، اور یہ وہی بڑا شیطان ہے۔
اسلامی جمہوری ایران کی پارلیمان کے کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کے سربراہ نے عراق میں داعش کی موجودگی سے پیدا ہونے والے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حالیہ برسوں کے دوران عراق میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے اس ملک کو سلامتی کے حوالے سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا، اور ہم ہمیشہ ان مشکل گھڑیوں میں عراقی عوام اور مسلح افواج کے ساتھ تھے تا کہ اس ملک کے عوام اپنا استقلال اور خودمختاری حاصل کرسکیں۔
ڈاکٹر بروجردی نے عراق کے لئے ایرانی امداد پر زور دیتے ہوئے کہا: ہم نے دفاع مقدس کے زمانے کے تمام تر تجربات شام اور عراق کو فراہم کئے اور عراق میں الحشد الشعبی کا قیام ایک بابرکت قدم تھا۔
انھوں نے عراق کے مستقبل کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا: ہم عراق کی تقسیم کے خلاف ہیں، عراق کی علاقائی سالمیت کو محفوظ رہنا چاہئے؛ اس میں عراقی ملت اور اسلامی امہ کا مفاد ہے۔ اگرچہ امریکہ اور اس کے حلیفوں کے دباؤ کے باوجود، عراق کی تقسیم کے سلسلے میں ان ممالک کا منصوبہ ناکام ہوچکا ہے۔
انھوں نے علاقے میں امریکی منصوبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جو کچھ امریکہ اس علاقے میں چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ علاقے کی اقوام کی رائے عامہ کو فلسطین کے مسئلے سے منحرف کرکے باہمی جنگوں اور خانہ جنگیوں پر مرکوز کرایا جائے۔ ان سازشوں کے سامنے پوری قوت سے ڈٹ جانا چاہئے اور اپنی اسلامی عزت کا تحفظ کرنا چاہئے۔
انھوں نے کہا: صہیونی ریاست امریکہ اور اس کے علاقائی اور بین الاقوامی حلیفوں کی تمام تر مدد و حمایت کے باوجود شکست کھا چکی ہے اور امریکہ کو بھی کچھ مدت بعد سابق سوویت روس کے انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
علاء الدین بروجردی نے نے اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے عراق کے مقدرات کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جو کچھ ہمارے لئے اہم ہے وہ یہ ہے کہ یہ دشوار دور گذر جائے، اور جنگوں اور تنازعات کا خاتمہ ہو؛ اور یہ بات اہم ہے کہ اس عرصے میں ایران اور عراق کے درمیان روابط و تعلقات اعلی ترین سطحوں تک قائم ہوچکے ہیں۔
انھوں نے عسکری شعبوں میں ایران کی خودکفالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم ایران میں اپنی مسلح افواج کے لئے ضروری، ہر قسم کے ہتھیار، خود ہی تیار کرتے ہیں، اور یہ قرآن کا حکم ہے کہ ہم دشمن کے مد مقابل عسکری حوالے سے ہر دم تیار رہیں؛ اور یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اسلامی انقلاب سے قبل کا ایران عسکری شعبوں میں مکمل طور پر امریکہ سے وابستہ تھا۔
انھوں نے داعش کے خلاف جنگ میں مجاہدین و مدافعین کی آخری فتح پر زور دیتے کہا: ہمیں امید ہے کہ ملت عراق، الحشد الشعبی اور النجباء عراق میں آخری فتح کو رقم کریں اور یقینی بنائیں۔
پارلیمان کے کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کے سربراہ نے عراق میں جاری جنگ کو مذہبی رنگ دینے کی امریکی ـ سعودی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عراق کے مراجع تقلید نے اس سازش کو بروقت بھانپ لیا اور آیت اللہ سیستانی نے اس مسئلے کو بطریق احسن نپٹایا ہے؛ ہمیں بھی امید ہے کہ بہت جلد عراق او ر سوریہ میں جاری بحرانوں کا مکمل خاتمہ ہو۔
بروجردی نے آخر میں یمن میں آل سعود کے جنگی جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یمن آج امریکہ اور اس کے علاقائی حلیفوں کے جرائم کی علامت بن چکا ہے اور یمن میں آل سعود کی کارکردگی غزہ میں اسرائیلی جرائم سے بدتر ہے۔

.......

/169