اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شام میں دہشت گردوں کے خلاف حملوں میں ایران کی فضائی حدود کے استعمال سے متعلق خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے علی شمخانی کا کہنا تھا کہ شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تہران ماسکو تعاون اسٹریٹیجک ہے اور اس حوالے سے تمام سہولتیں میہا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی مکمل نابودی تک ایران، روس، شام اور مزاحمتی محاذ کے درمیان تعمیری تعاون جاری رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ عوامی مزاحمت کی ڈاکٹرین ہی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے اور اسلامی ملکوں کی خود مختاری اور سلامتی کے تحفظ کا واحد راستہ ہے۔ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے سن دوہزار چھے کی تینتیس روزہ جنگ میں حزب اللہ کے ہاتھوں صیہونی حکومت کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام ہی حزب اللہ کی طاقت کا اصل سرچشمہ ہیں۔ ان کہنا تھا کہ تحریک مزاحمت اور حزب اللہ کی اصل طاقت اس کا عوامی ہونا نیز، جہادی اور اسلامی عزم کے ساتھ مقامی گنجائشوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں مضمر ہے۔ علی شمخانی نے سعودی عرب کی جانب سے شام اور یمن میں دہشت گردوں کی حمایت اور اسلامی ملکوں کی سلامتی کو درھم برھم کرنے کے لیے ایم کے او، دہشت گردوں کے استعمال کو قابل مذمت فعل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے یہ بات ہرگز قابل قبول نہیں ہے کہ سعودی عرب جیسا ملک اپنا سرمایہ تکفیری اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی تقویت کے لیے صرف کررہا ہے۔
.......
/169