اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ان حالیہ سالوں کےدوران ایران اوریورپ کے روابط میں بہت سےنشیب وفراز آئےہیں سیاسی اورمعاشی روابط سےہٹ کر ثقافت اورمذہب جیسے موضوعات میں بھی ایران اوربراعظم یورپ کے درمیان تعاون کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ بالخصوص ایٹمی سمجھوتے کے بعد ایران اوریورپ کےدرمیان ثقافتی،معاشی،سماجی اورسیاسی روابط میں بہتری آئی ہے اورامید کی جاسکتی ہےکہ آئندہ مہینوں اورسالوں کے دوران طرفین کے درمیان تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ خبررساں ایجنسی شبستان کےسیاسی نامہ نگارنے براعظم یورپ کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے یورپ کی پارلیمنٹ کی رکن ٹیزیانا بگین(Tiziana Beghin) سےگفتگو کی ہےکہ جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔
سوال: ایٹمی معاہدے کے بعد ایران اوریورپ کے درمیان روابط کے بارے میں آپ کی کیا نظرہے ؟اس معاہدے کے بعد کیا ایران اوریورپ قابل قبول نتائج پرپہنچ چکےہیں؟
انہوں نےاس سوال کے جواب میں کہا ہےکہ میرا عقیدہ ہےکہ ہرمعاہدے کو ثابت کرنا چاہے لیکن مجھے یقین ہےکہ ایرانیوں اوریورپیوں کے نزدیک اس معاہدے کی بہت زیادہ اہمیت ہے،بالخصوص کئی سالوں کی گوشہ نشینی کے بعد ایران کو بین الاقوامی معاملات کےسلسلےمیں داخل ہونے کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نےاس سوال کہ کیا یورپ میں ہونے والے دہشتگردانہ حملے مسلمانوں سے مربوط ہیں؟ اور یورپ میں اسلام فوبیا کےبارے میں آپ کی کیا نظرہے؟ کے جوا ب میں کہا ہےکہ میرا نہیں خیال کہ دہشتگردی کا اسلام سےکوئی تعلق ہو اگرچہ دہشتگرد اپنےمقاصد کے حصول کے لیے مذہب کے نام سے استفادہ کررہے ہیں۔ اس وقت داعش اوردیگردہشتگرد تنظیمیں اپنے سیاسی اہداف کوحاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں اوروہ ہماری سرزمین کو ناامن کررہی ہیں۔ لہذا ہمیں مکمل طورپرہوشیار ہونا چاہیےاوراس نام نہاد اسلامی گروپ کےجال میں نہیں پھنسنا چاہیے۔
ٹیزیانا بگین نےاس سوال کہ آپ کی نظرمیں ایران اوریورپ کس طرح دہشتگردی کےخلاف مشترکہ جنگ کرسکتے ہیں؟ کے جواب میں کہا ہےکہ یورپی ممالک کو دہشتگردی کےخلاف جنگ میں دیگرممالک کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اورمعلومات کا تبادلہ کرنا چاہیے اوریورپ کی سرزمین پردہشتگردانہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس اوردیگرتمام اداروں کو درمیان زیادہ سے زیادہ ہماہنگی پائی جانی چاہیے۔
.......
/169