اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی فشریز اتهاڑتی کے سربراہ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسی کے پس منظر میں ملک میں مچهلی کی پیداوار کی سطح میں قدر اضافہ ہوا ہے اور یہ 20 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے.
یہ بات 'حسن صالحی' نے ہرمزگان صوبے کے اعلی حکام کی موجودگی میں فشریز کے عنوان سے مزاحمتی اقتصادی سمینار کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مچهلی کی پیداوار کی سطح میں گزشتہ سال کے مقابلے میں چار گونا اضافہ ہوا ہے.
انہوں نے کہا کہ ہم خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ کیسپین کے ساحلوں میں مچهلی کی پیداوار کو 10 لاکه ٹن پہنچانے کی صلاحیت رکهتے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی مزاحمتی اقتصاد پالیسی کے اہداف کو مد نظر رکهتے ہوئے ہم فشریز صنعت کو مزید مستحکم کرنے کے لئے پُرعزم ہیں.
سنئیر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ مچهلی کی پرورش میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا اور اس حوالے سے مختلف ممالک نے فشریز صنعت کے فروغ پر ایرانی حکمت عملی کا خیرمقدم کیا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ 24 سے 26 سپتمبر تک چوتهی بین الاقوامی ایران سمندری کانفرنس (Iran Sea Expo 2016) تہران میں منعقد کی جائے گی.
حسن صالحی نے کہا کہ اس عالمی کانفرنس کے موقع پر فشریز صنعت میں مشترکہ سرمایہ کاری کے لئے ایران اور ناروے کے درمیان تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوں گے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲