اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارنا کے ساته گفتگو کرتے ہوئے بشیر حاجی بیگی نے بتایا ہے کہ بلڈ ٹرانسفیوژن آرگنائزیشن اور میڈیا کے درمیان باہمی تعاون سے لوگوں میں خون عطیہ کرنے کے عمل کو مزید فروغ ملے گا.
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم عطیہ خون کے موقع پر کیا اور مزید بتایا کہ خطی ممالک کے مقابلے میں ایرانی بلڈ بینکوں کی کارکردگی قابل قدر ہے.
خون کا عطیہ اور اس کو ذخیرہ کرنے کے حوالے سے کہنا ہے کہ ہر انسان کے بدن میں تین بوتل اضافی خون کا ذخیرہ ہوتا ہے، ہر تندرست فرد ، ہر تیسرے مہینے خون کی ایک بوتل عطیہ میں دے سکتا ہے. جس سے اس کی صحت پر مزید بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کا کولیسٹرول بهی قابو میں رہتا ہے. تین ماہ کے اندر ہی نیا خون بن جاتا ہے ، اس سلسلے میں ایک نظریہ یہ بهی ہے کہ نیا خون بننے کے ساته ساته بدن میں قوت مدافعت کے عمل کو بهی تحریک ملتی ہے. مشاہدہ ہے کہ جو صحت مند افراد ہر تیسرے ماہ خون کا عطیہ دیتے ہیں وہ نہ تو موٹاپے میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ انہیں جلد کوئی اور بیماری لاحق ہوتی ہے.
لیکن انتقال خون سے پہلے خون کی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے۔ کیونکہ بہت سی مہلک بیماریاں جیسے ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض انتقال خون کی وجہ سے ایک سے دوسرے پر منتقل ہوتے ہیں۔
ایرانی بلڈ ٹرانسفیوژن آرگنائزیشن کے ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ ادارہ خون حاصل کرنے کے اہداف حاصل کرچکا ہے اور خون بینکاری کے لحاظ سے اب خودکفیل ہوگیا ہے.
انہوں نے کہا کہ ایران میں عوام کے درمیان خون عطیہ کرنے کی رجحان بڑه گیا ہے اور گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس نیک نیت عمل کی سطح میں 6 فیصد اضافہ دیکها گیا ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲