اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے فرانس کے صدر جمہوریہ فرینکوس ہولانڈ اور دیگر مغربی حکمرانوں کے نام ایک تفصیلی خط لکھ کر انہیں تکفیری اور بین الاقوامی دھشتگردی کے بارے میں چند اہم نکات کی طرف متوجہ کیا۔
حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے اپنے خط میں غیر مسلمانوں کی جانوں کو تحفظ فراہم کرن کے سلسلے میں قرآن کریم، پیغمبر اکرم (ص) اور امام علی (ع) کے فرامین کی طرف اشارہ کیا اور لکھا: عربی نام رکھ لینا اور ظاہری طور پر اسلامی لبادہ اوڑھ لینا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ ان جرائم کے عاملین اسلام کے دستورات پر عمل کر رہے ہیں، اس بات کا واضح ترین ثبوت اسلامی سرزمینوں میں مختلف ادیان کے ماننے والوں کا صدیوں سے ایک ساتھ پر امن زندگی بسر کرنا ہے۔
انہوں نے اپنے خط کے آخر میں فرانس اور مغربی ممالک کے دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنے بے گناہ باشندوں اور معصوم بچوں کی جانوں کی حفاظت کی خاطر دوغلی پالیسوں اور سیاست بازیوں کو درکنار رکھ کر تکفیری اور عالمی دھشتگردی کے مقابلے میں اپنی تاریخی ذمہ داریوں پر عمل کریں انہوں نے کہا: اسلامی کے حقیقی علماء، واقعی اسلامی ممالک کے سربراہان اور تنظیمیں جو حقیقت میں دھشتگردی کا مقابلہ کرنے میں مصروف عمل ہیں اس کام میں آپ کے بہترین ساتھی اور معاون ہوں گے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل کے خط کا مکمل ترجمہ حسب ذیل ہے:
فرانس کے صدر جمہوریہ، جناب فرینکوس ہولانڈ صاحب!
مغربی ممالک کے صدور، وزرائے اعظم اور دیگر اعلی حکام!
فرانس کے شہر نائس کا دردناک حادثہ کہ جس میں دسیوں بے گناہ انسان مارے گئے یا زخمی ہوئے اس بات کا باعث بنا کہ میں آپ کو یہ خط لکھوں۔ لہذا شروع میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنی جانب اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکڑوں اراکین جو اس بین الاقوامی ادارے سے منسلک دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں کی جانب اس حملے کی شدید مذمت کریں۔
نیز آپ کو اور اس حادثے میں مارے جانے والوں کے پسماندگان کو تعزیت پیش کرتا ہوں اور اس دھشتگردی کا نشانہ بننے والوں کے لیے خداوند عالم سے امن و چین کی دعا کرتا ہوں۔
اس طرح کے دردناک حادثات جو کئی سالوں سے ہمارے علاقوں اور اسلامی ممالک کے دامن گیر ہیں اب آپ کے ممالک تک پہنچ چکے ہیں۔ کل ’’پیرس‘‘، ’’برسلز‘‘ اور ’’آرلینڈو‘‘ کو دھشتگردانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور آج ’’نائس‘‘ کو، اور خدا جانتا ہے کہ کل یہ حادثہ کہا رونما ہوتا ہے؟ کیا جیسا کہ تکفیری دھشتگردوں نے دھمکایا ہے ’’روم‘‘، ’’لندن‘‘، برلن اور ویانا کی سڑکیں بھی داعش اور القاعدہ کے ہاتھوں خون آلود ہوں گی؟ اور کیا ایسے حالات میں مستقبل کی نسبت کوئی امید قائم کی جا سکتی ہے؟
ان حادثات کی وجوہات کیا ہیں؟ ان دھشتگردوں کا کیا مطالبہ ہے جو معصوم بچوں پر بھی رحم نہیں کھاتے؟ کیا وہ مسلمان ہیں؟ ان کی یہ کاروائیاں کس آئیڈیالوجی سے وجود میں آتی ہیں؟ اور کہاں سے ان کی مالی حمایت ہوتی ہے اور کون ان کو اسلحہ فراہم کرتا ہے؟
جناب ہولانڈ صاحب اور مغربی ممالک کے سربراہان!
اگر چہ مجھے معلوم ہے کہ آپ ان سوالوں کے جوابات بخوبی جانتے ہیں لیکن صرف عام اذہان کو متوجہ کرنے کے لیے جو ان واقعات کی وجہ سے رنجیدہ خاطر ہیں اس خط میں پانچ اہم نکات کی طرف اشارہ کرتا ہوں؛
۱؛ آپ اور تمام مغربی باشندے یہ جان لیں کہ اس طرح کی دھشتگردانہ کاروائیاں کسی بھی قیمت پر اسلام کے نزدیک مورد تائید نہیں ہیں۔ عربی نام رکھ لینا، اسلامی لبادہ اوڑھ لینا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ ان کاروائیوں کے عاملین اسلام کے فرامین پر عمل پیرا ہیں۔ اس بات کا واضح ترین ثبوت اسلامی سرزمینوں میں صدیوں سے مختلف ادیان کے ماننے والوں کا باہمی طور پر امن کی زندگی گزارنا ہے۔ نیز علمائے اسلام چاہے شیعہ ہوں یا سنی، کی جانب سے ان کاروائیوں کی مذمت کرنا اس بات کی علامت ہے کہ امت مسلمہ تکفیری دھشتگردوں کو اپنا حصہ شمار نہیں کرتی۔
قرآن کریم واضح طور پر اسلام کی کلی سیاست کو انسانی حقوق کی رعایت اور غیر مسلمانوں کی جان کی حفاظت کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے یوں ارشاد فرماتا ہے: «لا ینهاکم الله عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین و لم یخرجوکم من دیارکم أن تبروهم و تقسطوا إلیهم إن الله یحب المقسطین؛
اس کام کو رسول خدا حضرت محمد مصطفیٰ (ص) نے حکومت کی باگ ڈور ہاتھ میں لینے کے ابتدائی ایام میں ہی انجام دیا اور ‘‘میثاق مدینہ‘‘ پیمان کے تحت غیر مسلمانوں کے جان و مال و حقوق کی حفاظت کو یقینی بنایا۔
اور اسلامی مذاہب کے رہنما امام علی بن ابی طالب نے بھی اپنے تاریخی حکم میں تمام مسلمانوں کو یہ دستور دیا کہ تمام انسانوں چاہے وہ کسی بھی دین یا عقیدے کے مالک ہوں کا احترام کریں اور آپ نے لکھا: «انهم صنفان اما اخ لک فی الدین او نظیرک فی الخلق؛ لوگ یا تمہارے دینی بھائی ہیں یا انسانیت اور خلقت میں تمہارے جیسے ہیں۔
۲؛ جو کچھ ہم نے بیان کیا اس کے پیش نظر آپ کے پاس اس بات کی کیا دلیل ہے کہ آپ ہمیشہ دھشتگردانہ کاروائیوں کو دین اسلام اور مسلمانوں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں؟ کیوں جناب ہولانڈ نے اس حادثے کے بعد دوبارہ اسے اسلامی دھشتگردی کا نام دیا؟ جیسا کہ داعش کی دھشتگردانہ کاروائیوں کے آغاز سے آج تک آپ مغربی ممالک کے حکمران اور آپ کا میڈیا اسے اسلامی حکومت سے پکارتا ہے! جبکہ دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمان اس گروہ کو دھشتگرد ٹولہ کہتے ہیں جس کا اسلام اور اسلامی تعلیمات سے دور دور کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔
۳؛ وہ دھشتگردانہ کاروائیاں جو آج آپ اپنے ملکوں میں دیکھ رہے ہیں اس چیز کا رد عمل ہے جس کے ساتھ ہم زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہماری قوم اس آگ میں جل رہی ہے۔ اگر اس دن جب یہ دھشتگرد پاکستان، افغانستان اور عراق و شام کو خاک و خوں میں یکساں کر رہے تھے مغربی اور امریکی ممالک اپنی بین الاقوامی کانفرنسوں میں ان کی حمایت کے بجائے ان کی بیخ کنی کے بارے میں غور و فکر کرتے تو آج یہ درد ناک واقعات آپ کے گھروں میں پیش نہ آتے۔
۴؛ ہمارے لیے یہ تعجب خیز بات ہے کہ ایسے حال میں جب فرانس خود اس وقت تکفیری دھشتگردی کی لپیٹ میں جا رہا ہے اس ملک کے حکمران منافق دھشتگرد ٹولوں کی حمایت کرتے ہیں؟! فرانس پیرس اور نائس کے حملوں میں تقریبا ۳۰۰ افراد کو قربان کر چکا ہے لیکن ابھی بھی ان جرائم پیشہ دھشتگردوں کی حمایت کا دم بھر رہا ہے جو ۱۷۰۰۰ بے گناہ ایرانیوں کے قاتل ہیں! اس سے بھی بدتر یہ کہ فرانس نے پانچ روز قبل آل سعود کے اس منافق شخص ’’ترکی الفیصل‘‘ جو طالبان، القاعدہ، داعش، بوکوحرام اور جبہۃ النصرہ جیسے دسیوں دھشتگرد ٹولوں کو جنم دینے والے ہیں کو اپنے ملک کے دار الحکومت میں دھشتگردی کی حمایت میں تقریر کرنے کی اجازت دی! ذرا سوچو کہ کیا مغرب کے بے گناہ باشندوں پر دھشتگردانہ حملے انہیں کاموں کا نتیجہ تو نہیں ہیں؟
۵؛ تکفیری مجرم، جو وہابیت اور سلفیت کے غیر انسانی افکار پر عمل پیرا ہیں ان کے نزدیک چھوٹا بڑا، زن و مرد، سیاہ و سفید، مسلمان و غیر مسلمان، ایشیا کا رہنے والا یا مغرب کا رہنے والا کوئی فرق نہیں کرتا۔ تکفیری دھشتگردوں کا کوئی ایک دین نہیں ہے۔ ان کا پیشہ صرف انسانوں کا قتل عام ہے۔ اور چونکہ یہ ایک عالمی خطرہ ہے اس دلسوز بلا کے شر سے نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام ممالک اپنی اپنی ذمہ داری کے تحت اس کی جڑوں کو خشک کرنے کے لیے کوشاں ہو جائیں اور اس کام کے لیے سب سے پہلا اقدام یہ ہے کہ دھشتگردوں کی مالی اور اسلحہ جاتی امداد رسانی کے تمام راستوں کو فی الفور بند کیا جائے تمام سرحدوں کو سیل کیا جائے تاکہ ان کی صف میں مزید افراد شامل نہ ہو سکیں۔
آپ اور آپ کی سکیورٹی ایجنسیاں بخوبی جانتی ہیں کہ القاعدہ، داعش اور جبہۃ النصرہ کے ہزاروں دھشتگرد آج کن ممالک سے پیسہ وصولتے ہیں کن ممالک سے اسلحہ لیتے ہیں کن ملکوں میں ٹریننگ کرتے ہیں اور کن مفتیوں کے فتووں کے ذریعے اپنے جرائم کو شرعی رنگ دیتے ہیں۔
فرانس کے صدر جمہوریہ اور مغربی ممالک کے اعلی حکمرانو!
اب وہ وقت آ چکا ہے کہ کم سے کم اپنے بے گناہ باشندوں اور معصوم بچوں کی جانوں کو بچانے کے لیے اپنی دوغلی پالیسیوں اور سیاست بازیوں کو درکنار رکھ کر بےلگام تکفیری دھشتگردی کے مقابلے میں اپنی تاریخی ذمہ داری پر عمل کریں۔ اسلام کے حقیقی علما اور ان اسلامی ممالک کے حکمران اور وہ تنظیمیں جو حقیقت میں دھشتگردی کا مقابلہ کر رہی ہیں اس سلسلے میں آپ کے بہترین ساتھی اور معاون ہوں گے۔
والسلام علی من اتبع الھدیٰ
محمد حسن اختری
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل
.....................
242