اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں قوانین موجود ہیں لیکن کہیں عملدرآمد کا فقدان ہے تو کہیں اس کے عملدرآمد میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں، تحفظ پاکستان جیسے قوانین کی بجائے اگر پہلے سے موجود قوانین پر من و عن عملدرآمد کیا جائے، ان کے نفاذ میں رکاوٹوں کو دور کیا جائے، آئین و قانون کی صحیح معنوں میں عملداری قائم کی جائے تو پھر کبھی عارضی قوانین کی ضرورت نہیں پڑے گی، اسٹرٹیجک گہرائی پالیسی کی طرح اب قومی مفاد کا نام استعمال کرنے اور ظالمانہ توازن کی پالیسی کا بھی اختتام کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک کی مجموعی سیاسی و امن و امان کی صورتحال پر تبصرہ اور تحفظ پاکستان ایکٹ کی مدت ختم ہونے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کی حمایت ملک سے دہشت گردی، انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کی لعنت کا چھٹکارا پانے کے لئے کی، لیکن افسوس اس پر عملدرآمد اس کی روح کے مطابق کیا ہی نہیں کیا گیا۔ اس وقت بھی ہم نے کہا تھا کہ پہلے سے موجود قوانین پر اگر عملدرآمد کرایا جائے تو پھر کسی صورت کسی نئے قانون کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی، لیکن ہم نے ملک کے تحفظ، امن و استحکام کی خاطر اس کی حمایت کی۔
شیعہ علماء کونسل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو مناسب ہوگا کہ ذمہ دار حضرات اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے درستگی حالات پر توجہ دیں اور اس کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، انہیں چاہئیے کہ عارضی قوانین بنانے یا انہیں توسیع دینے کے بجائے حالات کو معمول پر لایا جائے، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو سنجیدگی سے یقینی بنایا جائے، پہلے سے موجود قوانین پر صحیح معنوں میں عملدرآمد کرایا جائے، ان قوانین کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور ہر رکاوٹ کو قانون کی عملداری کے لئے راستے سے ہٹایا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل منتخب پارلیمان میں اسٹرٹیجک (ڈیپتھ) گہرائی پالیسی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ ماضی میں غلط پالیسی اپنائی گئی، اسی طرح ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قومی مفاد کا نام استعمال کرنے اور ظالمانہ توازن کی پالیسی کا بھی خاتمہ کیا جائے، جس کے تحت نہ صرف ملک کے ہر شعبے و طبقے جن میں آئین و قانون، سسٹم، سیاست، معیشت، معاشرت، ایڈمنسٹریشن اور کلچر کو ٹارگٹ کرکے تباہ کر دیا گیا، وہیں ملت تشیع کو بھی بے پناہ نقصان پہنچایا گیا، اسی پالیسی کے تحت محب وطن قوتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، امن و امان کے نام پر شہری آزادیاں تک سلب کرلی گئیں، اب اس سلسلے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب ایسی حکمت عملی مرتب کی جائے، تاکہ تمام طبقات کے تحفظات بھی دور ہوں، ان کے مفادات کا پاس بھی رکھا جائے اور ملک کو سکیورٹی سٹیٹ کے بجائے فلاحی اسلامی جمہوری ریاست کی جانب لوٹایا جائے، جس کے حصول کے لئے طویل جدوجہد اور لاکھوں قربانیاں دی گئیں۔
.......
/169