6 مئی 2016 - 12:21
ڈاکٹر ولایتی کی مزاحمتی صورتحال، شام میں جنگ بندی اور ایران، سعودیہ تعلقات پر تازہ ترین گفتگو

ولايتي نے كہا ہے كہ امريكہ، ناجائز صہيوني رياست سميت اور ان كے اشاروں پر چلنے والا سعودي عرب با وجود اس كے كہ حزب اللہ كيخلاف سازش كر رہے ہيں مگر حزب اللہ كے سربراہ حسن نصراللہ كي بہادري اور عزم قابل تعريف ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رہبر انقلاب اسلامی کے سینئر مشیر برائے بین الاقوامی امور نے کہا ہے کہ مزاحمتی فرنٹ لائن میں موجود اسلامی جمہوریہ ایران، شام اور حزب اللہ کی طاقت مثالی ہے اور شام میں مسلط کردہ جنگ پانچ سال ہونے کے باوجود آج ہم اپنی مزید کامیابیوں پر مطمئن ہیں.

ان خيالات كا اظہار ڈاكٹر 'علي اكبر ولايتي' نے اپنے دورہ لبنان كے موقع پر ارنا كے نمائندے كو خصوصي انٹريو ديتے ہوئے كيا. ڈاكٹر ولايتي عالمي مزاحمتي علما اتحاد اور بين الاقوامي اھلبيت اسمبلي كي اعلي كونسل كے اجلاس ميں شركت كيلئے 'بيروت' كے دورے پر ہيں.

انہوں نے اس انٹريو كے دوران مزاحمتي عمل كي صورتحال، شام ميں جنگ بندي اور ايران اور سعودي عرب كے درميان تعلقات پر روشني ڈالي.

اس موقع پر انہوں نے كہا كہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي كي لبناني مزاحمتي تحريك حزب اللہ كي بھرپور اور اعلي سطح حمايت نے لبنان كي اسلامي مزاحمتي عمل كو مضبوط كيا ہے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ شام امن مذاكرات كے آغاز كيلئے تمام ضروري اقدامات اٹھانے كي ضرورت ہے تاہم شام ميں ہونے والي جنگ بندي كي خلاف ورزي اور امن مذاكرات ساتھ ساتھ نہيں چل سكتے.

ولايتي نے كہا ہے كہ امريكہ، ناجائز صہيوني رياست سميت اور ان كے اشاروں پر چلنے والا سعودي عرب با وجود اس كے كہ حزب اللہ كيخلاف سازش كر رہے ہيں مگر حزب اللہ كے سربراہ حسن نصراللہ كي بہادري اور عزم قابل تعريف ہے.

شام كي صورتحال كے حوالے سے انہوں نے كہا كہ آج بعض مسلح گروہوں جو شام سے تعلق نہيں ركھتے وہ بعض ہمسايہ ممالك كي سرحدي علاقوں سے شام ميں داخل ہوتے ہيں اور وہاں جنگ بندي كي كھلي خلاف ورزي كر رہے ہيں.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ جنگ بندي شام امن عمل كا ايك حصہ ہونا چاہئے اور اس آپشن پر شامي حكومت اور قوم كي رضامندي ہوني چاہئے.

ايران،سعوديہ تعلقات ولايتي كا كہنا ہے كہ لبنان كے پيچيدہ مسائل كے كيلئے حل تہران،رياض كے تعلقات كي بحالي ناگزير ہونے والي بات درست نہيں كيونكہ اسلامي جمہوريہ ايران سميت كسي بھي ملك كو لبنان كے اندروني معاملات ميں مداخلت نہيں كرنے چاہيئے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ ايران كسي بھي ملك كے داخلي امور ميں مداخلت نہيں كرتا اور جہاں شام اور عراق كي بات ہے تو وہاں كي حكوموتوں نے ايران سے تعاون اور مدد كرنے كي درخواست دي تھي.

ڈاكٹر ولايتي نے كہا كہ ہم شام ميں اس لئے ہيں كيونكہ شامي حكومت نے ہم سے درخواست كي تھي، اور سعودي عرب بھي شام ميں موجود ہے مگر وہ شامي حكومت كي درخواست پر نہيں بلكہ تكفيري اور انتہا پسند عناصر كي دعوت وہاں مداخلت ميں مصروف ہے.

سپريم ليڈر كے سنئير مشير نے مزيد كہا كہ ايران كيوں لبنان،شام اور عراق كے مسائل پر سعودي عرب سے بات كرے جبكہ ہم سمجھتے ہيں ان ممالك كے عوام ہي اپنے مستقبل كا فيصلہ كرسكتے ہيں اور ہميں اس معاملے ميں مداخلت كرنے كي ضرورت نہيں ہے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا ہم سمجھتے ہيں جب سعودي عرب ديگر ممالك بالخصوص علاقائي اور اسلامي ملكوں ميں اپني مداخلتوں كو ختم كرے تو اندروني مشكلات سميت خطي اور بين الاقوامي مسائل كو حل كيا جاسكتا ہے.

ايران اور لبنان كے تعلقات پر ولايتي نے كہا كہ بہت جلد دونوں ملكوں كے تجارتي اور اقتصادي تعلقات كو نئي سمت ملے گي.

انہوں نے ايران اور لبنان كے درميان اقتصادي، تجارتي، سائنسي اور ثقافتي تعاون بڑھانے كي ضرورت پر بھي زور ديا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲