28 اپریل 2016 - 18:14
شام کے بحران کو بپا کرنے میں سعودی عرب سرفہرست: قطر کے سابق وزیر خارجہ

قطر کے سابقہ وزیر خارجہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ شام میں رونما ہونے والے واقعات نہ صرف ایک عوامی انقلاب نہیں تھا بلکہ وہ ایک بین الاقوامی سازش تھی کہ جس میں سر فہرست سعودی عرب تھا ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قطر کے وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خارجہ حمد نے فایننشیل ٹائمز کے ساتھ ایک گفتگو میں کہ جس کو گذشتہ ۱۵ اپریل کو منتشر کیا گیا ایک جنجال سے پردہ اٹھایا اور سعودی عرب کو سال ۲۰۱۲ سے شام کے پیچیدہ حالات کا زمہ دار بتایا اور کہا کہ جو کچھ ہوا وہ ایک بین الاقوامی کھیل تھا نہ ایک انقلاب اور امریکہ اور قطر نے اس کے لیے ہری جھنڈی دکھائی تھی کہ شام میں مداخلت کی جائے ۔

طراد ابن سعید العمری مشہور عربستانی قلمکار انحاء میں ایک تحلیل میں لکھتا ہے ؛ شیخ حمد کی باتوں سے بہت سارے سوالات سامنے آتے ہیں جنسے شام کے بارے میں جو داستان بنائی گئی تھی اس کی بنیادیں بالکل کھوکھلی ہو جاتی ہیں ۔ س داستان کا تانا بانا خلیج فارس کے ملکوں نے بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے بنا تھا اور اس کا مقصد علاقے میں ایران کے نفوذ کے آگے بند باندھنا تھا اس کی ذمہ داری امریکہ ،سعودی عرب ، اور قطر پر عاید ہوتی ہے کہ جاسم کی باتوں کی وضاحت کریں ۔

اس نے بات آگے بڑھائی ؛جب ٹائمز کے خبر نگار رولا خلف نے شیخ حمد سے پوچھا کہ آیا وہ شام کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں یا نہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ میں آپ سے ایسی بات کہتا ہوں جو میں نے اب تک کسی کو نہیں بتائی ،جب ہم شام کے قضیے میں پڑنے کی ابتدا میں تھے  تو ہم مطمئن تھے کہ قطر جلد ہی تمام معاملات کی رہبری اپنے ہاتھ میں لے لے گا اس لیے کہ اس زمانے سعودی عرب مداخلت پر مایل نہیں تھا ،اس کے بعد شام کے سلسلے میں سیاست بدل گئی اور ہمیں نہیں بتایا کہ سعودی عرب یہ چاہتا ہے کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں پس یہ معاملہ ہمارے اور سعودی عرب کے درمیان رقابت پر منتہی ہوا ۔

سعودیہ کے خلاف یہ اعتراف ، سعودیہ کے خلاف بین الاقوامی موج کا ااغاز ہے

طراد العمری اس سلسلے میں لکھتا ہے : یہ جنجالی اعتراف سوال پیدا کرتا ہے کہ کس نے اس زمانے میں ایسی بات کہی تھی ؟ اگر حمد کہتا ہے کہ شام کا بحران ایک بین الاقوامی کھیل تھا تو اس کی یہ گفتگو بھی کیا اسی کھیل کا حصہ نہیں ہے ؟

یہ سعودی قلمکار مزید لکھتا ہے : شیخ حمد کا  انٹرویو فایننشیل ٹایمز میں ۱۵ اپریل کو منتشر ہوا  اور یہ وہی ہے کہ امریکہ میں سعودی عرب کے حملوں میں شریک ہونے کے بارے میں بحث چل رہی تھی ،اور ۱۷ اپریل کو نشریہ آٹلانٹیک میں اور ۱۸ اپریل کو نیو یارک ٹایمز میں سعودی عرب کے خلاف مقالے منتشر ہوئے ۔

اس نے بات آگے بڑھائی : حمد بن جاسم کا یہ کہنا کہ شام میں جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے ایک بین الاقوامی کھیل ہے کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اس لیے کہ شام کے حوادث کی ابتدا سے وہ الگ نوعیت کی چیز تھے ۔ جیسا رولان دوما نے فرانس کے سابقہ مسئول نے ایک ٹی وی کی گفتگو میں کہا تھا بہار عربی کے شروع ہونے سے دو سال پہلے ہی قطر شام پر حملہ کرنے کے تیار تھا اس لیے کہ ملک لیبیا ، مصر یمن اور شام میں ہمیشہ سازش کرتا رہا ہے ۔

قطر کے سابقہ وزیر اعظم کے اعتراف کا حساس نکتہ کونسا ہے ؟ طراد العمری مزید لکھتا ہے : شام کے مسئلے کے سلسلے میں سعودی عرب کا جنجالی اور عجیب مسئلہ بعد والے مسائل سے مربوط ہے اور اس مسئلے کی سرکاری تائیید یا تکذیب کی ضرورت ہے ،اس لیے کہ بن جاسم کے بقول جو لوگ سڑکوں پر آئے تھے سعودی عرب نے ان کی مسلحانہ امداد کی تھی لیکن سعودی عرب اور خلیج فارس کے ملکوں کے یہ دعوے بالکل کھوکھلے ثابت ہوئے ؛  ۱ ۔ جو کچھ شام میں ہو رہا ہے یہ ایک عوامی انقلاب ہے ،۲ ۔ بشار اسد نے لوگوں کو قتل اور بے گھر کیا ہے ،۳ ۔ شام میں مداخلت مخالفین کے ساتھ ہمدردی اور دوستی کی بنا پر کی گئی ہے ، ۴ ۔ ایران خطے میں بے ثباتی کا ذمہ دار ہے ،

قطر کے سابقہ وزیر خارجہ کی باتوں سے یہ تمام دعوے باطل ہو جاتے ہیں

اس سعودی قلمکار نے آگے یہ مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ ،سعودی عرب ، قطر کے حکام سرکاری بیان کے ذریعے  اس بات کی وضاحت کریں  اس لیے کہ  یہ الزام قانونی اور سیاسی لحاظ سے بہت خطر ناک ہے ۔

اس نے وضاحت کی ہے کہ کسی ملک کے خلاف سازش کرنا کہ جو حاکمیت رکھتا ہو کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس کو آسانی کے ساتھ نظر انداز کر دیا جائے ضروری ہے کہ حمد بن جاسم جس مسئلے کو بین الاقوامی کھیل بتا رہا ہے اس کے بارے اطلاع کسب کی جائے ،ایک اہم سوال باقی بچتا ہے کہ آیا اسرائیل جولان کے مسئلے کے مد نظر اس کھیل کا حصہ ہے ؟

طراد العمری نے آگے لکھا ہے ؛ شام کی ان باتوں کو بنیاد بنا کر مقدمہ دائر کر کے اس کھیل کے بدلے میں ایک ٹریلین ڈالر طبور تاوان جنگ لے سکتی ہے ۔

اس سعودی قلمکار نے اپنے مضمون کے آخری حصے میں اس راز کو فاش کرنے کے بعد کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے ساتھی خلیج فارس کے ملکوں سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ کنارہ کش ہو جائیں ؟ یا شام کے بحران کے حل کے مذاکرات میں شرکت کریں ؟

بہر جو کچھ پیش آیا ہے وہ یہ ہے کہ حمد نے بمب کو سعودی عرب کی جھولی میں ڈال دیا ہے ،اب سعودیوں کو حقایق کا سامنا کرنا ہو گا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲