اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کےایک سیاسی تجزیہ نگار’’ڈینیل پیٹرک ولچ‘‘نے پریس ٹی وی کےساتھ انٹریو میں دنیا بھر میں امریکہ کے جمہوریت قائم کرنے اورانسانی حقوق کے ڈرامے کا خلاصہ کرتے ہوئےکہاکہ امریکہ اقوام عالم کو جمہوریت کی آڑمیں دہشتگردی تحفے میں دے رہاہے ۔
انہوں نےکہاکہ امریکہ وہ ملک ہے جوجمہوریت اورانسانی حقوق کی بحالی کی آڑ میں دنیا بھر میں ڈیتھ اسکواڑاوردہشتگرد گروہوں کو تخلیق کررہاہے اوراصل میں مسئلہ یہ ہےکہ امریکہ موت کے سوا کوئی بھی چیز برآمد نہیں کرسکتا ہے۔
انہوں نےکہاکہ امریکہ نے دنیا بھر میں جمہوریت اورانسانی حقوق کی پشت پناہی کا ڈرامہ رچا کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے کئی ممالک میں مداخلت کر کے ان ممالک کو برباد کردیا ہے۔
انہوں نے امریکہ کے 2016ء کے صدارتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے اسے دنیا کا بدترین انتخاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ جو دنیا بھر میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کا ڈھنڈورا پیٹتا پھرتا ہے کا اپنا نظام حکومت جمہوریت کے نام ایک بدترین دھبہ ہے کیونکہ اس ملک کا انتخابی عمل اور نظام حکومت اتنا خوفناک ہے کہ وہ جمہوریت کے معیار پر کھر انہیں اتر سکتا ہے۔
موصوف تجزیہ نگار نے شام میں امریکہ کی طرف سے مزید فوجیں بھیجنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بدنام زمانہ تکفیری دہشتگرگروہ داعش کو ختم کرنے کے بہانے اصل میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو ختم کرنے کی طاق میں ہے اور اسی لئے وہ شام کے تئیں نت نئے ہتھکنڈے آزما رہا ہے۔
ڈینیل پیٹرک ولچ نے مزید کہا کہ ایک طرف امریکی صدر باراک اوباما نے شام میں مزید فوجیں نہ بھیجنے کا وعدہ کیا اور دوسری طرف وہ بحران زدہ شام میں فوجیں بھیج کر وہاں کی صورتحال سے فائید ہ اٹھانا چاہتے ہیں جوکہ اس حکومت کی منافقت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲