25 اپریل 2016 - 15:31
بحران شام کے حل میں امریکہ کی عدم دلچسپی پر روس کی سخت تنقید

امریکا شام کے بحران کے تعلق سے روس کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے پیر کو ماسکو میں ایتھوپیا کے وزیر خارجہ تدروس ادہانوم گھبریسوس کے ساتھ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ امریکا کی وزارت جنگ پینٹاگون اور وزارت خارجہ دونوں ہی کی جانب سے شام کے مسئلے میں روس کے ساتھ ہم آہنگی سے اجتناب کرنے کی کوششوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بحران شام کے تعلق سے امریکا کے طرزعمل اور بحران کے حل میں روس کے ساتھ تعاون میں امریکا کی عدم دلچسپی پر سخت تنقید کی۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے شام کے نئے آئین کی تیاری اور منظوری کے عمل میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے شام کے نئے آئین کی تدوین کے لئے چھے مہینے کی مدت معین کی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام اس سے کم مدت میں ہی انجام پانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لئے ضروری ہے کہ جنیوا امن مذاکرات بغیر کسی وقفے کے جاری رہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ شام کا نیا آئین جلد از جلد تیار کر کے استصواب رائے کے لئے عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ جنیوا امن مذاکرات کے شرکاء بغیر کسی وقفے کے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھیں اور جو کام مخالفین کے ریاض گروپ نے کیا ہے، اس قسم کے کاموں سے پرہیز کریں۔

یاد رہے کہ شام کے مخالفین کا ریاض گروپ گزشتہ ہفتے کچھ پیشگی شرطیں رکھتے ہوئے جنیوا امن مذاکرات میز سے اٹھ کر چلا گیا اور اعلان کیا کہ شرطیں پوری ہونے کی صورت میں ہی اس کی واپسی ہو گی۔

مخالفین کے ریاض گروپ کے اس اقدام کے بعد روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا تھا کہ سعودی حکومت کا حمایت یافتہ مخالفین کا گروپ پیشگی شرطوں کے ذریعے حکومت شام پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے حکومت شام کے خلاف ریاض گروپ کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہو‏ئے کہا تھا کہ شام کی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور-عوام تک امداد رسانی میں رکاوٹیں ڈالنے کے دعووں سمیت ریاض گروپ کے کسی بھی دعوے کو مخالفین کے دوسرے گروپ قبول نہیں کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲