اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر 'حسن روحانی' نے کہا کہ اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار گزشتہ سال ایران کی تجارت میں توازن دیکھا گیا اور اسی دوران ہماری غیرتیل مصنوعات کی برآمدات کی سطح غیرتیل اشیاء کی درآمدات کے مقابلے میں تجاوز کرگئی.
ان خيالات كا اظہار اسلامي جمہوريہ ايران كے صدر مملكت نے پير كے روز تہران ميں وزير انفارميشن ٹيكنالوجي سميت اس وزارت كے نائب وزراء اور سنئير حكام كيساتھ ايك نشست ميں خطاب كرتے ہوئے كيا.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ گزشتہ سال ايران سے 42 ارب ڈالر ماليت پر مختلف غير تيل مصنوعات برآمد كي گئي جو كہ گزشتہ سالوں كے مقابلے ميں زيادہ ہے. اور اسي دوران ہماري غيرتيل اشياء كي درآمدات كي ماليت 41 ارب ڈالر ريكارڈ كي گئي ہے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ ايراني قوم كي بھرپور حمايت اور حوصلے سے ملك ترقي اور خوشحالي كي راہ پر گامزن ہے مگر اس ترقي كے سفر ميں اختلافات اور غيرضروري مسائل كو ركاوٹ نہيں بننا چاہئے.
صدر مملكت نے كہا كہ وطن عزيز ميں انتخابات كے دوران مقابلے اور بحث و مباحث جائز ہے مگر اب انتخابات ختم ہوچكے ہيں اور ملك كي ترقي كيلئے باہمي تعاون ناگزير ہے.
انہوں نے اس كہا كہ جوہري معاہدے كے نفاذ سے بن جانے والي فضا سے ملكي ترقي اور خوشحالي كے لئے زيادہ سے زيادہ استفادہ كريں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲