اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی حکومت آئندہ چوبیس گھنٹے میں ان نوجوانوں کو پھانسی کی سزا دینے کا ارادہ رکھتی ہے جن پر حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کرنےکا الزام ہے- ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ ان نوجوانوں میں ایسے بھی نوجوان ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سال سے کم ہیں- سعودی حکومت جن نوجوانوں کو پھانسی دینے کا ارادہ رکھتی ہے ان میں سعودی عرب کے ممتاز عالم دین شہید آیت اللہ شیخ باقر نمر کے بھتیجے علی النمر بھی شامل ہیں- ایمنسٹی انٹرنیشنل میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے شعبے کے انچارج جیمز لینچ نے کہا ہے کہ اگر پھانسی کی ان سزاؤں پر عمل درآمد کیا گیا تو پھر اس میں کوئی شبہہ نہیں رہ جائے گا کہ سعودی حکومت بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہے کیونکہ عالمی قوانین کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر کے نوجوانوں کو پھانسی نہیں دی جا سکتی- ایمنسٹنی انٹرنیشنل کے مذکورہ عہدیدار کا کہنا ہے کہ لوگوں پر دباؤ ڈالنا، جبری اقبال جرم کرانا اور تفتیش کے دوران لوگوں پر تشدد اور انہیں ایذائیں دینا، ایسے اقدامات ہیں جنھیں انجام دے کر سعودی حکومت عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتی ہے- ایمنسٹی انٹرنیشنل کے عہدیدار جیمز لینچ نے کہا کہ سعودی حکومت کو چاہئے کہ وہ ان افراد کو پھانسی دینے سے گریز کرے- ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مذکورہ عہدیدار نے کہا ہے کہ ان افراد پر غیر جانبدارنہ عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور سعودی عرب کے عدالتی نظام میں تبدیلی تبدیلی کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169