29 فروری 2016 - 17:54
روس: شام کی تقسیم کسی طور قبول نہیں کرسکتے

روس نے ایک بار پھر شام کی تقسیم کے کسی بھی منصوبے کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک سابق یوگوسلاویہ کی طرز پر شام کی تقسیم کے کسی بھی منصوبے کو سختی کے ساتھ مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے سابق یوگوسلاویہ کی مانند شام کو کئی ملکوں میں تقسیم کرنے کے امکان کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ روس کے لئے شام کے حوالے سے کوسووو یا ایسا ہی کوئی اور ماڈل ہرگز قابل قبول نہیں۔ روس کے نائب وزیر خارجہ نے شام میں مستقبل کے سیاسی نظام کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس بات کا فیصلہ شامی دھڑوں کے درمیان مذاکرات میں ہونا چاہئے۔ روسی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور خطے کے بعض ممالک شام کو دو حصوں، مشرقی اور مغربی شام میں تقسیم کرنے کی سازش تیار کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گزشتہ ہفتے سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے اس سازشی منصوبے کی جانب اشارہ بھی کیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں جنگ بندی ناکام ہونے کی صورت میں پلان بی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق پلان بی کا مقصد، شام کی تقسیم کے ناپاک منصوبے پر عمل درآمد کی راہ ہموار کرنا ہے۔شام کی تقسیم کسی طور قبول نہیں کرسکتے، روس کا اعلان

روس نے ایک بار پھر شام کی تقسیم کے کسی بھی منصوبے کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک سابق یوگوسلاویہ کی طرز پر شام کی تقسیم کے کسی بھی منصوبے کو سختی کے ساتھ مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے سابق یوگوسلاویہ کی مانند شام کو کئی ملکوں میں تقسیم کرنے کے امکان کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ روس کے لئے شام کے حوالے سے کوسووو یا ایسا ہی کوئی اور ماڈل ہرگز قابل قبول نہیں۔ روس کے نائب وزیر خارجہ نے شام میں مستقبل کے سیاسی نظام کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس بات کا فیصلہ شامی دھڑوں کے درمیان مذاکرات میں ہونا چاہئے۔ روسی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور خطے کے بعض ممالک شام کو دو حصوں، مشرقی اور مغربی شام میں تقسیم کرنے کی سازش تیار کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گزشتہ ہفتے سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے اس سازشی منصوبے کی جانب اشارہ بھی کیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں جنگ بندی ناکام ہونے کی صورت میں پلان بی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق پلان بی کا مقصد، شام کی تقسیم کے ناپاک منصوبے پر عمل درآمد کی راہ ہموار کرنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169