اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق موصل ایہم حسین نامی یہ 15 سالہ نوجوان اپنے والد کے سٹور میں مبینہ طور پر موسیقی سن رہا تھا کہ داعش کے کافر جنگجوؤں نے اسے دھر لیا۔
ایہم حسین کو گھسیٹ کر داعش کی اسرائیلی عدالت میں لے جایا گیا جہاں پر موجود کافرجج سے اس کا سر قلم کرنے کا فیصلہ صادر کر دیا۔ واضح رہے کہ داعش کی جانب سے موسیقی سننے پر موت کی سزا دینے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔
غیر ملکی میڈیا کو ملنے والی تفصیلات کے مطابق داعش کے کافردہشتگرد کسی کام کے سلسلے میں عراق کے جنوبی شہر موصل کی مارکیٹ نبی یونس میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک 15 سالہ نوجوان موسیقی سننے میں مصروف ہے۔ انہوں نے اس کے بعد اس نوجوان کو فوری طور پر وہاں سے اٹھایا اور گھسیٹے ہوئے اپنی اسرائیلی عدالت لے کر پہنچ گئے۔
کافر جج نے واقعہ سننے کے بعد اس نوجوان کا فوری طور پر سر تن سے جدا کرنے کا حکم دیدیا۔ داعش کے وہابی دہشتگرد عدالتی فرمان پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایہم حسین نامی اس 15 سالہ نوجوان کو بھرے مجمع میں لے گئے اور ایک جلاد نے تلوار کے وار سے اس کی گردن اڑا دی۔



۔۔۔۔۔۔۔
/169