اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ۱۴ فروری بحرین کی انقلابی تحریک کی پانچویں سالگرہ کی مناسبت سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کیا جس میں ملت بحرین کی حمایت کرنے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ آل خلیفہ حکومت کے ظلم و تشدد کی مذمت کی اور اس ملک کے مظلوم عوام کے حق میں عالمی سیاستوں کو بدلنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بیان جو عربی زبان میں جاری کیا گیا اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بحرین کے انقلاب کی پانچویں سالگرہ کے آغاز پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس ملک کے عوام نے بحرین کے تاریک دور کے خاتمہ کے لیے ایک مثالی استقامت کا مظاہرہ کیا جو آل خلیفہ کے ملک پر تسلط پیدا کرنے سے شروع ہوئی۔
یہ انقلابی تحریک ۱۴ فروری ۲۰۱۱ کو شروع ہوئی تاکہ بحرین میں ڈکٹیٹرشپ اور ظلم و استبداد کی بساط کو لپیٹ دے۔ بحرین کی انقلاب تحریک آل خلیفہ حکومت کے وحشیانہ اقدامات کے باوجود ابھی بھی ظلم و استبداد کو ختم کرنے کے لیے جاری ہے۔
یہ ایسے حال میں ہے کہ غیر ملکی فوجیں سعودی افواج کی رہنمائی میں بحرین میں وارد ہوئیں تاکہ بحرین میں جمہوری نظام حکومت کی تشکیل کے لیے اس ملک کے شہریوں کی سرکوبی کر کے ان کے عادلانہ مطالبات کے حصول کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کریں۔
لیکن اس کے باوجود، بحرینی حکومت کے تمام اقدامات اس ملک میں انقلابی تحریک کو مٹانے اور لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے سے عبارت ہیں۔
ملت بحرین کے انقلاب نے اپنی تلاش و جستجو کا پانچواں سال مکمل کیا اور چھٹے سال میں قدم رکھا اس حال میں کہ درد و الم سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن یہ انقلاب بحرین میں ایک روشن مستقبل کے وجود کی امید میں ہے، ایسا مستقبل کہ جس میں اس ملک کے لوگ سماجی عدالت اور اجتماعی مساوات کے حامل ہوں گے۔
ملت بحرین نے انقلاب کی پانچویں سالگرہ کو ’’نمر کے ساتھ نافرمانی‘‘ کے عنوان سے آغاز کیا جو بروز جمعہ ۱۲ فروری کو بحرین کے مختلف علاقوں میں مظٓاہروں کی صورت میں شروع ہوئی۔ اس شعار کا مقصد شیخ نمر کے ساتھ اظہار وفاداری ہے اس لیے کہ شیخ نمر ہمیشہ بحرین کے لوگوں کے حقوق کا دفاع کرتے تھے۔ ملت بحرین اس شعار کے ساتھ بحرین میں غیر ملکی افواج کو باہر نکالنے کے خواہاں ہیں اور آل سعود کی نابودی کے متمنی ہیں۔
اس مناسبت سے بحرین کے عوامی انقلاب سے متعلق چند حقائق کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:
۱؛ بحرین میں انقلاب ایک عوامی تحریک ہے جس میں ملت بحرین کے تمام لوگ شامل اور حصہ دار ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جس میں عوام کی شرکت علاقے کی دیگر انقلابی تحریکوں کی بنسبت سب سے زیادہ فیصد کی حامل ہے بحرین کی انقلابی تحریک میں ستر فی صد سے زیادہ عوام کی شرکت ہے۔
۲؛ بحرین میں انقلابی تحریک آل خلیفہ خاندان کی اس ملک کے عوام پر ظلم و استبداد اور کھلے عام بربریت سے آغاز ہوئی آل خلیفہ حکومت نے شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا، سیاسی حقوق سے محروم دور رکھا۔ یہ حکومت، حکومتی عہدوں کی تقسیم میں مذہبی امتیاز کی قائل ہے۔ اور اس ملک کی اکثریت کو ان کے تمام سیاسی، شہری اور اقتصادی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہے۔
۳؛ بحرین میں عوامی انقلاب، جمہوریت اور انتخابات کے ذریعے اپنی سرنوشت کو متعین کرنے کا خواہاں ہے۔ لوگوں نے گزشتہ پانچ سالہ انقلابی تحریک کے عرصے میں اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے جدو جہد کی جو بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر برحق ہے۔
۴؛ بحرین کا انقلاب آل خلیفہ نظام کی جوازیت کو مکمل طور پر کنڈم کرتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ بندوق اور ٹینک کے ذریعے موجودہ دور میں لوگوں پر حکومت نہیں کی جا سکتی۔
۵؛ بحرین کے عوامی انقلاب نے دنیا کے مختلف مناطق سے اپنے تئیں تائید حاصل کر لی ہے اور یہی وہ انقلاب ہے جو عربی ممالک پر حاکم نظام میں تبدیلی کا باعث بنا اور آج عربی ممالک حکومتی میدان میں عوام کی شراکت کو اہم سمجھتے ہیں۔
۶؛ بحرین کی انقلابی تحریک نے آل خلیفہ رژیم کی جوازیت کو کنڈم کرنے کے علاوہ عالمی سطح پر دیگر کامیابیاں بھی حاصل کی جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس انقلابی تحریک نے ملت بحرین پر جاری مظالم سے دنیا کو آگاہ کیا اور آج بحرین کی فائل علاقے اور دنیا میں سیاسی، اقتصادی اور حقوقی نشستوں میں پیش کی جاتی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے بارہا بحرینی عوام کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور آج ایک بار پھر اس تحریک کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر اس کے ساتھ حمایت کی تکرار کرتی ہے۔
اہل بیت(ع) اسمبلی، عالمی برادری کو دعوت دیتی ہے کہ ملت بحرین جو مسلسل پانچ سال سے ظلم و ستم کے ساتھ دست و پنجہ نرم کر رہی ہے کے ساتھ عملی طور پر اپنی حمایت کا اعلان کرے اور آل خلیفہ حکومت کے مزدوروں اور قابض فوجیوں کے تشدد کے مقابلے میں ٹھوس موقف اختیار کرے تاکہ ملت بحرین بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنی سرنوشت کو خود رقم کریں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
۱۴ فروری ۲۰۱۶
.............
242