9 فروری 2016 - 11:58
شام میں روس اور ایران کی موجودگی نے کھیل کے نئے قواعد وضع کر دئے

ایک برطانوی فکری مرکز، انٹرنیشنل اسٹریٹیجیک اسٹیڈیز فاونڈیشن کے تجزیہ نگار نے صوبہ حلب میں شام اور اس کے حامیوں کی فوج کی پیش قدمی کے بارے میں خبر دار کرتے ہوئے شام کے سلسلے میں امریکی حکومت کے موقف پر تنقید کی ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صوبہ حلب میں  شام کی فوج کی کامیابیوں کو لے کر مغرب والوں کی تشویش میں اضافے کو دیکھتے ہوئے ایک برطانوی فکری مرکز ، انٹرنیشنل اسٹریٹیجیک  اسٹیڈیز فاونڈیشن کے تجزیہ نگارامیل الحکیم نے ایک مضمون میں کہ جس کا موضوع ہے شام کے باغیوں کے ساتھ اوباما کی دردناک خیانت ، جو فارین پالیسی میں شایع ہوا ہے شام کی فوج کے ذریعے حلب پر دوبارہ قبضہ کر لینے کے سلسلے میں خبر دار کیا ہے ۔

 اس تجزیہ نگار نے موجودہ  (فروری ، ۲۰۱۶ کی) تبدیلیوں کا فروری ۲۰۱۵ کی میدانی تبدیلیوں کے ساتھ موازنہ کیا اور اعتراف کیا کہ اس وقت شام کی فوج روس کی ہوائی حمایت اور ایران کی حمایت سے اچھی پیش قدمی کرنے میں خاص کر صوبہ حلب میں کامیاب ہوئی ہے ۔

اس نے شام کے میدان میں قابل مشاہدہ تبدیلیوں کی وجہ روس کے ہوائی حملوں اور ایران کی بشار اسد کی حکومت کی حمایت کو قرار دیا  اور البتہ خبر دار کیا کہ  وائٹ ہاوس روس ایران اور اسد کو کامیابی کا تحفہ دے رہا ہے ،

اس نے صوبہء حلب کے ہاتھ سے نکل جانے کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار  کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی :اگر شہر حلب کے کچھ حصوں میں موجود باغی مغلوب ہو جائیں تو یہ اسد کے لیے ایک حیرت انگیز کامیابی ہو گی ۔

اسٹریٹیجیک مطالعات کے بین الاقوامی مرکز  کے اس تجزیہ نگار کی نظر میں شام میں روسی فوج کی موجودگی اور اس کے حملوں کی وجہ سے شام میں کھیل کے نئے قواعد وضع کیے جا رہے ہیں ۔

اس نے اپنی رپورٹ کے ایک اور حصے میں اعتراف کیا ہے کہ شام اور اس کے حامیوں کی فوجیں شمال اور جنوب کے تمام محاذوں پر پیش قدمی اور جوش و خروش کی حالت میں ہیں ۔

الحکیم نے یہ بھی لکھا ہے ؛ ترکی اور سعودی عرب  جوباغیوں کے اصلی حامی ہیں ان کے پاوں  کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے ۔اور اب شاید ہتھیاروں کی فراہمی بھی طاقت کے توازن کو تبدیل نہ کر سکے ۔

اس مضمون میں مزید آیا ہے ؛ امریکی سیاست کا دیوالیہ ان سب چیزوں سے الگ ہٹ کر ہے ۔ آج ہی سے امریکہ نے اسد کو کلیدی امتیازات دے دیے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں  وہ خالی ہاتھ ہے اور اسے کچھ نہیں ملا ہے ۔ جنیوا کے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے والے ایام میں ہی طے ہو گیا تھا کہ امریکہ روس اور اسد سے زیادہ شام کے اپوزیشن والوں پر  دباو ڈال رہا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲