اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
تحریر: ریاض عبّاس عابدی نوگاوی
مقیم مسقط – عمان
جس دن سعودی عرب نے دہشت گردی سے نمٹنے کے نام پر 34 مسلم ممالک کے اسلامی فوجی اتحاد کا اعلان کیا تھا اسی دن مجھے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ اچانک اسلامی فوجی اتحاد کیا گیا تھا مزے کی بات یہ تھی کہ ایران اور عمان اس اسلامی فوجی اتحاد سے باہر رہے، تبھی مجھے لگا کہی نہ کہی دال میں کالا ہے جب سعودی عرب نے شیعہ ممتاز عالم دین شیخ باقر النمر کو سزاۓ موت دی گئی تو معلوم ہوا کی پوری دال ہی کالی ہے
شیعہ ممتاز عالم دین شیخ باقر نمر کے بہانے سعودی عرب کی وہابی آل سعود کی حکومت نے پوری دنیا میں سنی - شیعہ میں نفرت پیدا کرنے کی سازش رچائی ہے. سعودی عرب میں آل سعود کی حکومت کی سازش سے بچنے کے لئے تمام مسلمانوں کو ایک جٹ رہنا چاہئے۔ آل سعود کی حکومت مسلم معاشرے میں بٹوارہ کر کے زہر گھولنا چاہتی ہے۔
ایک سچا مسلمان ہمیشہ حق کی بات کرتا ہے ایک نیوز ایجنسی کے مطابق اہل سنت علماء نے سعودی عرب کے سینئر عالم دین شیخ باقر النمر کو شہید کرنے پر سعودی عرب کے حکام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے افسر اور بادشاہ جاہل اور بے وقوف ہیں اور وہ اس علاقے میں امریکہ کی نوکری کر رہے ہیں- اس کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی سعودی حکومت کی مذمت ہو رہی ہے -
شیعہ سینئر عالم دین شیخ باقر النمر نے سعودی عرب میں شیعہ اقلیتوں سمیت پوری سعودی عوام کے جمہوری حقوق کے لئے آواز بلند کی تھی.
وہ معاشرے میں پھیلے غلط ريتي رواج کو ختم کرنا چاہتے تھے، غریب اور عورتوں – جوانوں کے حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے جس کو لے کر سعودی عرب کی حکومت کی مخالفت میں تحریک چلائے ہوئے تھے جس کی وجہ سے 2011 میں ان کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کے پیروکاروں اور خود ان کے خلاف اپنے ملک کے سرکاری ڈھانچے یا سیکورٹی فورسز کے خلاف کسی پرتشدد سرگرمیوں میں شامل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے. اس کے باوجود اس سال کے آغاز میں ہی سعودی حکومت نے شیخ نمر اور ان کے تین ساتھیوں کو 43 دوسرے لوگوں کے ساتھ شہید کر دیا - .
سینئر عالم دین شیخ باقر النمر کو سزائے موت دینے کے بعد پوری دنیا میں سعودی عرب کی مخالفت ہو رہی ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب نے بوكھلا كر ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیئے ہیں جس کے ساتھ ساتھ اس کے پٹھو بحرین اور سوڈان وغیرہ نے بھی ایران کے ساتھ سفارتی تعلق ختم کر دیئے ہیں- .
اب سوال یہ اٹھتا ہے آخر ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟ دراصل بات یہ ہے کہ جب سے ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدہ کی کامیابی سامنے آرہی ہے جب سے سعودی عرب ایسا ہو گیا ہےجیسے اسکو کسی پاگل کتے نے کاٹ دیا ہو کیوں کہ وہ کبھی نہیں چاہتا کے کوئی مسلم ملک کبھی بھی مجھ سے زیادہ طاقتور ہو۔
سعودی عرب مسلم ممالک کو اپنی انگليوں پر نچانا چاہتا ہے اسی کے نتیجے میں یمن کی عوام پر ظلم جاری ہے، سعودی عرب کی پالیسی یہ ہے کہ اپني عوام کو ناخواندہ رکھو جس کی وجہ سے عوام ہم سے سوال جواب نہیں کر سکتی اور ہم عوام پر آمریت کرتے رہیں گے. اور یہی پالیسی وہ دوسرے مسلم ممالک پر بھی تھوپتا ہے۔
ایران اور عمان کے ساتھ ایسا بالكل نہیں ہے ایران اپنی عوام کو تعلم دینے کے اقدام کرتا ہے لوگوں کو ہر طرح کے بنیادی حقوق سے سرافروز رکھتا ہے - ایران ہر سطح پر سعودی عرب کے مقابلے میں بہت بہتر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲