8 جنوری 2016 - 18:46
ایران میں عراقی شاعر کو پھانسی دئے جانے کا پروپیگنڈا سفید جھوٹ

حقیقت یہ ہے کہ اس تصویر کا عراقی شاعر النعیمی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تصویر ایک ایسے ایرانی مجرم کو پھانسی دئے جانے کی ہے جسے دو ہزار گیارہ میں ایران میں اس جرم میں پھانسی دی گئی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب میں آل سعود کے ہاتھوں بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو پھانسی دئے جانے کے بعد آل سعود کے حامیوں نے اس حکومت کی سفاکیت پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک نیا پروپیگنڈا تیار کیا جس کی حقیقت ایک سفید جھوٹ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔
یہ پروپیگنڈا وہاں سے شروع ہوا جب سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹویٹر پرآل سعود کے حامی ایک شخص نے ایک ایسی تصویر شائع کی جو ایران میں ایک شخص کو پھانسی دئے جانے کی عکاسی کرتی ہے اور کہا گیا کہ عراقی شاعر کو ایران میں پھانسی دے دی گئی۔ اس خبر کے شائع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ سعودی عرب نے اپنے شہری شیخ نمر کو اگر کسی جرم میں سزائے موت دی تو ایران چلا اٹھا جبکہ ایران نے خود اپنے شہری کو نہیں بلکہ عراقی شاعر کو پھانسی دی ہے۔
ٹویٹر پر اس تصویر کو شائع کرنے والے کا دعویٰ یہ ہے کہ: ’’ عراقی شاعر احمد النعیمی کو ایران میں شیعہ مذہب کی توہین میں شعر کہنے کے جرم میں پھانسی دی گئی‘‘۔


یہ خبر دھیرے دھیرے نہ صرف عربی ذرائع ابلاغ اور اخبار میں پھیلی بلکہ کُرد اور فرانسوی اخباروں کے پہلے صفحے کی سرخی بھی بن گئی۔ اور پوری دنیا میں ایران کے خلاف یہ پروپیگنڈا چلا دیا گیا کہ ایران میں ایک عراقی شاعر کو پھانسی دے دی گئی ہے۔


اس تصویر کی حقیقت
حقیقت یہ ہے کہ اس تصویر کا عراقی شاعر النعیمی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تصویر ایک ایسے ایرانی مجرم کو پھانسی دئے جانے کی ہے جسے دو ہزار گیارہ میں ایران میں اس جرم میں پھانسی دی گئی کہ اس نے پانچ عورتوں کے ساتھ تجاوز کیا اور اس کے بعد انہیں قتل کر دیا۔ وہ ایک مینی بس کا ڈرائور تھا اور ایران میں اسے ’’ وحشی ڈرائور‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا نے اس بارے میں مزید تحقیقات انجام دی اور عراق کی انجمن مولفین کے سربراہ فاضل ثمر سے عراقی شاعر جس کے بارے میں پھانسی کا شوشہ چھوڑا گیا گفتگو کی اس گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس شاعر کی طرف منسوب کیا گیا شعر کئی سالوں سے سائبری فضا میں موجود ہے۔ جبکہ ہم احمد النعیمی کسی عراقی شاعر کو جانتے ہی نہیں۔ اگر اس نام کا کوئی شاعر رہا بھی ہو گا تو وہ غیر مشہور رہا ہو گا۔
عجیب بات یہ ہے کہ عربی ذرائع کے ذریعے شائع کی گئی خبر میں اس شخص کو سزائے موت دئے جانے کی جگہ بھی ذکر نہیں کی تاہم ایرانی، عراقی حتی بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے بھی معلوم کیا گیا تو انہوں نے بھی اس بات کی تائید نہیں کی اور کہا کہ ایران میں اب تک کسی عراقی شاعر کو سزائے موت نہیں دی گئی۔
سائبری فضا میں اگر آپ بھی عربی زبان کے شاعروں میں احمد النعیمی کو جستجو کریں گے تو آپ کو بھی اس نام کا کوئی شاعر نظر نہیں آئے گا چہ جائیکہ ایران نے اسے پھانسی دی ہو۔



واضح ہے کہ آل سعود اور اس کے ریالوں پر پلنے والوں نے اس رسوائی کو کم کرنے کے لیے جو آیت اللہ شیخ نمر کو شہید کئے جانے کے بعد انہیں پوری دنیا میں نصیب ہوئی ہے ایران کے خلاف یہ پروپیگنڈا رچایا ہے اور ایرانی مجرمین کو گزشتہ عرصے میں دی گئی پھانسیوں کو برجستہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲