اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ، روس ، فرانس، چین ، برطانیہ، جرمنی، اٹلی ، ترکی، مصر، قطر اور عمان کے علاوہ شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس اجلاس میں شریک ہے اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف ایرانی وفد کی قیادت کے لیے ویانا پہنچ گئے ہیں۔ ویانا میں سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس اجلاس میں ماہرین کی سطح پر تین ورکنگ گروپ قائم کئے جائیں گے جو بند کمروں میں شام سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیں گے۔ ان میں سے ایک گروپ شام میں حکومت مخالف گروہوں ، دوسرا گروپ دہشت گردی ، اور تیسرا گروپ امداد رسانی جیسے معاملات کا جائزہ لے گا۔
بحران شام کے حل کے لئے سفارتی مذاکرات اور بات چیت کی غرض سے ہونے والے ویانا ایک اجلاس کے بعد ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سمیت سترہ ملکوں کے وزرائے خارجہ اور اقوام متحدہ نیز یورپی یونین کے نمائندوں نے ایک نو نکاتی بیان بھی جاری کیا تھا۔
شام کی حقیقی اپوزیشن جماعتوں کا تعیں ویانا دو اجلاس کا اہم ترین موضوع بحث ہے لیکن مذاکراتی عمل کو شام کے اندرونی معاملات اور یا صدر بشار اسد کی سیاسی زندگی کے بارے میں شامی عوام کے فیصلوں کو مداخلت کا سبب نہیں بننا چاہیے۔
پچھلے اڑتالیس گھنٹے کے دوران پیرس میں جس طر ح دہشت گردی کے ہولناک واقعات پیش آئے ہیں اور جس کے نتیجے میں ایران کے صدر کا دورہ اٹلی ، ویٹیکن اور فرانس ملتوی ہوگیا ہے، اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ دہشت گردی سرحدوں تک محدود نہیں ہے۔ ایک زمانے میں مغرب والے تصور کرتے تھے کہ شام ، عراق اور لبنان میں دہشت گردوں کو اچھے اور برے دہشت گردوں کے خانے میں تقسیم کرکے ان میں بعض کے خلاف جنگ اور بعض کے ساتھ رابطوں کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ لیکن دہشت گردی اب ان فرضی خانوں سے باہر آگئی ہے اور یورپ اور ایشیا سے لیکر افریقہ اور امریکہ کی سرحدوں کے اندر سرایت کرگئی ہے۔ اور مغرب اس کی قیمت چکا رہا ہے۔
ویانا اجلاس اس پالیسی پر نظرثانی کا بہترین موقع ہے البتہ یہ اجلاس اسی صورت میں ایک قابل قبول نتیجے تک پہنچ سکتا ہے جب اس کے متنظمیں کا مقصد امن کا قیام ہو ، بشار اسد کے سیاسی مستقبل کے بارے میں اپنی رائے مسلط کرنا نہیں۔ لیکن صدر بشار اس کے بارے میں ویانا اجلاس میں شریک ملکوں کے موقف میں تضاد پوری طرح سے واضح ہے۔
امریکہ بدستور اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ شام کے سیاسی منظر نامے سے بشار اسد کو ہٹائے جانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ویانا دو اجلاس کا راستہ پہلے مقرر کردیا جائے۔ امریکہ نے صیہونی حکومت کی دائمی حمایت کے ذریعے ثابت کردیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کبھی سنجیدہ نہیں رہا۔
دوسری جانب روسی وزارت خارجہ نے واضح کردیا ہے کہ ماسکو نہیں چاہتا کہ ویانا دو اجلاس میں صدر بشار اسد کے مستقبل کے بارے میں بات چیت کی جائے بلکہ اس اجلاس میں صرف شام میں کشیدگی اور جنگ کے خاتمے پر توجہ دی جانا چاہیے۔
اختلافات کی اس گہری خلیج کو دیکھتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ محمدجواد ظریف نے کہا ہے کہ ویانا دو اجلاس سے ٹھوس نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
ایران کے وزیر خارجہ نے روزنامہ سفیر سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹھوس خطرات نے پورے خطے کو اپنی زد پر لے رکھا ہے اور یہ خطرات صرف شام تک محدود نہیں لیکن مغربی ممالک ان خطرات کو جو نہ صرف ہمارے خطے کے لیے بلکہ تمام ملکوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، ہرگز محسوس نہیں کر رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169