اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سی آئی اے پولیس کے ہاتھوں انٹرپول کے ذریعے دبئی سے گرفتار ہونے والے لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں نے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔ دہشتگردوں کا دوران تفتیش کہنا ہے انہوں نے لاہور میں خون کا دریا بہانے کا منصوبہ بنا رکھا تھا اور منصوبے میں امریکی قونصلیٹ سمیت اہم سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانا تھا جبکہ ان دہشتگردوں نے 40 سے زائد افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا منصوبہ بنا رکھا تھا اور ان کی ریکی بھی مکمل کر رکھی تھی۔ دہشتگردوں کے بقول ان تمام شخصیات کو محرم الحرام کے دوران ہی ٹارگٹ کیا جانا تھا۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ 9 اور 10 محرم کے جلوسوں پر بھی حملے کئے جانے تھے۔ منصوبے کے مطابق جن شخصیات کو ٹارگٹ کیا جانا تھا ان میں خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبدالخبیر آزاد سمیت مذہبی رہنما، ججز، صحافی، وکلا اور پولیس کے اعلٰی افسران شامل تھے۔ ملزمان نے دوران تفتیش یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ڈی ایس پی طارق کمبوہ، سانحہ مومن پورہ، وحدت کالونی لاہور میں ڈاکٹر قیصر عباس سیال، ممتاز شاعر ڈاکٹر سید شبیہہ الحسن، ممتاز قانون دان سید شاکر علی رضوی ایڈووکیٹ، بینک منیجر سید وقار حیدر، ڈاکٹر سید علی حیدر، سید مرتضٰی علی حیدر، علامہ ناصر عباس آف ملتان، خرم رضا قادری اور علی حسن قزلباش کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا تھا۔ دبئی سے انٹرپول کے ذریعے پکڑے جانیوالے دہشتگردوں میں ہارون رشید بھٹی، احمد یار غلام، طارق نواز، ایاز احمد اور غلام مصطفٰی شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲