اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے رکن، امام راحل اور انقلاب اسلامی کے یاور و ناصر اور حافظ کل قرآن آیت اللہ ابوالقاسم خزعلی کہولت سن کے وجہ سے انتقال کر گئے ہیں۔
آپ چند سال مختلف بیماریوں کی وجہ سے رنج و الم میں مبتلا رہے اور آخر کار آج بروز بدھ کو تہران کے ایک ہسپتال میں دار فانی کو الوداع کہہ گئے۔
مختصر حالات زندگی
پیدائش اور طفولیت
ابوالقاسم خزعلی ایرانی سال کے مطابق ۱۳۰۴ ہجری شمسی میں صوبہ لرستان کے علاقے بروجرد میں پیدا ہوئے آپ کے والد ایک عام انسان لیکن اہل بیت اطہار (س) کے انتہائی محب اور باایمان شخص تھے جب ابوالقاسم دس سال کے تھے تو اقتصادی حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے والدین نے مشہد مقدس ہجرت کی اور وہاں محنت مزدوری کر کے اپنی زندگی کے ایام گزارنے لگے۔
مکتب میں قرآن کریم کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آپ نے ساتویں کلاس تک سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد گھر کے اخراجات پورے کرنے کی غرض سے ایک دوکان کھول لی اور کسب و کار میں مشغول ہو گئے۔ ۱۷ سال کی عمر میں اچانک آپ کے اندر دینی تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا اور کاروبار چھوڑ کر مشہد مقدس کے حوزہ علمیہ میں چلے گئے اور دینی تعلیم پڑھنے لگے۔
مشہد کے حوزہ علمیہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد قم کا سفر کیا اور قم میں اس دور کے بزرگ اساتید آیت اللہ بروجردی اور امام خمینی کے دروس میں شرکت کی۔
علمی اور ثقافتی سرگرمیاں
آپ حصول علم کے زمانے سے ہی ثقافتی اور علمی خدمات انجام دینے میں مشغول ہو گئے طاغوتی دور میں انقلابی تقاریر کے ذریعے لوگوں مخصوصا جوانوں کے ذہنوں کو بیدار کیا اور انہیں صحیح اسلام اور اس دین کی تبلیغ کی جو عین سیاست ہے۔
علمی سرگرمیوں کے میدان میں تاہم صرف ایک کتاب تفسیر سورہ فاتحہ کے عنوان سے منظر عام پر آئی ہے۔
سیاسی سرگرمیاں
انقلاب اسلامی کی تحریک کے دوران انقلاب اور امام خمینی(رہ) سے آپ کی انتہائی محبت اور حمایت جبکہ حکومت مخالف فعالیتوں کی وجہ سے کئی مرتبہ آپ کو زندان میں جانا پڑا، جلاوطن ہونا پڑا اور شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت وقت نے آپ کو جلا وطن کیا ہوا تھا کہ قم میں آپ کے بیٹے کا انتقال ہو گیا آپ خفیہ طور پر بیٹے کے جنازے میں شریک ہوئے اس مصیبت پر آپ نے صبر سے کام لیا اور ایک آنسو تک نہیں بہایا۔
آپ کی سیاسی سرگرمیوں میں سے ایک اہم سرگرمی یہ تھی کہ آپ امام راحل کے پیغامات کو ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کیا کرتے تھے اور لوگوں کو امام کے بیانات سے آگاہ کرتے تھے۔
امام خمینی(رہ) کو آپ پر اس قدر بھروسہ تھا کہ آپ کو انہوں نے ’’انجمن حجتیہ مھدویہ‘‘ میں اپنا نمائندہ مقرر کیا۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد بھی آیت اللہ خز علی نے کافی اہم سرگرمیاں انجام دیں آپ ہمیشہ سے امام خمینی(رہ) کے یار و مددگار اور آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے ساتھی رہے۔ ہمیشہ لوگوں کو ولی فقیہ کی پیروی کی طرف دعوت دی اور دشمنوں کے پروپیگنڈوں اور منافقین کی سازشوں سے آگاہ کیا۔
آیت اللہ خزعلی ایران عراق کی آٹھ سالہ جنگ کے دوران بھی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان جنگ میں رہے اور مجاہدین اسلام کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔
آپ جملہ ان افراد میں سے ہیں جنہوں نے ۱۳۹۶ ہجری قمری میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی بنیاد ڈالی۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد آپ جن اہم عہدوں پر فائز رہے:
۔ ماہرین آئین کی اسمبلی کے رکن
۔ مجلس خبرگان رہبری کے رکن
۔ مجلس خبرگان میں صوبہ خراسان کے لوگوں کے نمائندے
۔ قانون اساسی کی گارڈین کونسل کے رکن
۔ بین الاقوامی ادارے الغدیر کے جنرل سکریٹری
۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سابقہ اعلی کونسل اور جنرل کونسل کے رکن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲