7 ستمبر 2015 - 14:13
امریکہ کا سابق نائب صدر انسان نما جانور ہے: امریکی تجزیہ نگار

انہوں نے کہا کہ یہ انسان نما جانور جس نے لاکھوں عراقیوں کو مارنے کیلئے بُش انتظامیہ کی ہاں میں ہاں ملایا تھا اب داعش کے ذریعے شامی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں مصروف عمل ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کے ایک سیاسی تجزیہ نگار اور سابق سی آئی اے کنٹریکٹر ’’اسٹون ڈی کیلی‘‘ نے پریس ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں سابق  امریکی نائب صدر ڈک چینی کو شیطانی صفات کا جیتا جاگتا مجسمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈک چینی ایسے بدنفس اور شریر انسان نما جانور ہیں کہ جس نے عراق کو تباہ و برباد کر کے لاکھوں بے گناہ لوگوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈک چینی بدنام زمانہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کی تخلیق کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ شام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ انسان نما جانور جس نے لاکھوں عراقیوں کو مارنے کیلئے بُش انتظامیہ کی ہاں میں ہاں ملایا تھا اب داعش کے ذریعے شامی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں مصروف عمل ہے۔

موصوف تجزیہ نگار نے ڈک چینی جو کہ بش انتظامیہ میں نائب صدر کے فرائض انجام دے رہے تھے کے ان بیانات کہ جن میں اس نے موجودہ امریکی صدر باراک اوباما کو یورپی ممالک میں پناہ گزینوں کے سیلاب اور عراق میں دہشتگردوں کیلئے راہ ہموار کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2003ء میں اگر یہ شخص عراق پر حملہ کرنے میں پیش پیش نہ ہوتا تو اس وقت عراق کی حالت ایسی نہ ہوتی۔

قابل ذکر ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ارکان نے ڈک چینی کے بیانات کو بے بنیاد اور خرافات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق پر 2003ء کے حملے کا ذمہ دار ڈک چینی ہی ہے۔

واضح رہے کہ 2003ء میں بش انتظامیہ نے عراق پر یہ بہانہ بنا کر حملہ کیا کہ عراق کے ڈکٹیٹر حکمران صدام کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے جو کہ بعد میں غلط ثابت ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲