31 اگست 2015 - 19:16
وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے تیونس میں صحافیوں سے گفتگو کی

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں ایران ہمیشہ پیش پیش رہا ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے منگل کو تیونس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کے خلاف حقیقی جنگ کے لئے سیاسی عزم کی ضرورت ہے- جواد ظریف نے کہا کہ داعش کے سلسلے میں دہرا رویہ کہ جو علاقے میں دہشت گردی اور داعش کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اگر ترک کر دیا جائے تو یہ داعش کے خلاف جنگ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے- ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی ایک ملک میں داعش کے خلاف جنگ کی جائے اور دوسرے ملک میں اس دہشت گرد گروہ کی مدد کی جائے- محمد جواد ظریف نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ عالم اسلام اور دنیائے عرب کے مسائل، گفتگو، اعتدال اور سیاسی عمل کے ذریعے حل کئے جا سکتے ہیں، کہا کہ بیرونی ممالک کو مداخلت بند کر دینی چاہئے اور مذاکرات میں ان ملکوں کی مدد کرنی چاہئے- ایران کے وزیر خارجہ نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران، ان مذاکرات میں مدد کے لئے سب کے ساتھ خاص طور پر تیونس کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے اور ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیاں عالم اسلام اور کسی بھی پڑوسی ملک کے لئے خطرہ نہیں ہیں- ایران کے وزیر خارجہ نے شام اور یمن کے بارے میں کہا کہ دونوں ممالک کے مسائل، ان ملکوں کے عوام کے لئے قابل قبول اصولوں کی بنیاد پر حل ہونے چاہئیں اور اس تناظر میں جو اقدامات کئے جائیں ان میں بیرونی مداخلت سے اجتناب، انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد اور قانون اور عوام کے موقف کا احترام شامل ہے- ایران کے وزیرخارجہ نے اپنے نئے علاقائی دورے کا آغاز تیونس سے کیا ہے- ویانا میں ایٹمی سمجھوتے کے بعد وزیر خارجہ جواد ظریف کا علاقے کے ممالک کے دورے کا یہ تیسرا مرحلہ ہے-

.......

/169