اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ چینی حکام کے ساتھ چھوٹے پاور پلانٹس کی تعمیر پر باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط متوقع ہیں تاہم ایران چین کے ساتھ جوہری توانائی شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی آمادہ ہے.
يہ بات 'علي اكبر صالحي' نے چيني دارالحكومت 'بيجنگ' ميں ارنا كے نمائندے كے ساتھ گفتگو كرتے ہوئے كہي.
ايران اور گروپ 1+5 كے درميان جوہري مذاكرات ميں چيني حكام كي موثر كوششوں كا حوالہ ديتے ہوئے اس موقع پر انہوں نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران چين كے ساتھ جوہري توانائي كے شعبے ميں باہمي تعاون كو نئي سطح پر لے جانے كے لئے تيار ہے.
ايران اور چين كے درميان تعلقات كو خاص اور قريبي قرار ديتے ہوئے علي اكبر صالحي نے مزيد كہا كہ تہران اور بيجنگ كے درميان روابط علاقائي اور بين الاقوامي صورتحال كے پيش نظر مزيد مضبوط ہوئے ہيں.
انہوں نے كہا كہ مغرب كے ساتھ جوہري معاہدہ طے ہونے كے بعد ايران اور چين كے تعلقات نئے مرحلے ميں داخل ہوئے اور دونوں ممالك كے درميان مختلف شعبوں ميں تعاون بڑھانے كے وسيع امكانات ہيں.
صالحي نے كہا كہ چيني حكام كے ساتھ 'اراك' ہيوي واٹر ري ايكٹر كے حوالے سے تفصيلي اور جامع مذاكرات كريں گے اور مزيد برآں ايك وركنگ گروپ قائم كيا جائے گا جس ميں چين مركزي كردار ادا كرے گا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲