اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی ایکسپیڈینسی کونسل کے سربراہ نے جوہری معاہدہ اور اس کے خلاف مغرب اور بالخصوص امریکہ میں موجود مخالف گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناجائز صیہونی ریاست اور بعض علاقائی ممالک اپنے خدشات کی خاطر اس معاہدے کے خلاف کام کر رہے ہیں.
يہ بات آيت اللہ 'اکبر ہاشمي رفسنجاني' نے بدھ کے روز ايران ميں تعينات ترک سفير 'رضا حاکان تکين' کے ساتھ ايک ملاقات ميں گفتگو کرتے ہوئے کہي.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائي حساس صورتحال کے پيش نظر ايران اور ترکي ميں موجود دونوں سفارتخانوں پر اہم ذمہ داري عائد ہوتي ہے تاہم کچھ عناصر دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کي سازش بھي کررہے ہيں.
حاليہ ترکي کے اندر ايراني ٹرکوں اور گيس پائپ لائنوں پر کاروائيوں کے حوالے سے انتباہ کرتے ہوئے انہوں نے مزيد کہا کہ ايسي صورتحال ميں بعض انتہا پسند ميڈيا حالات کو کشيدہ کرنے کي کوشش ميں ہيں.
انہوں نے اس بات پر زور ديا کہ دونوں ممالک کے حکام کو چاہئے کہ ايسي سازشوں کو ناکام کرنے کے لئے باہمي وفود کے تبادلوں ميں اضافہ کريں اور برادرانہ اور قريبي روابط کو متاثر ہونے کي ہرگز اجازت نہ ديں.
آيت اللہ رفسنجاني نے کہا کہ ايران اور ترکي ہرگز علاقائي معاملات ميں ايک دوسرے کے حريف نہيں ہيں بلکہ تاريخ بتاتي ہے کہ دونوں ممالک کے درميان مضبوط تعاون ميں ہي خطے کي سلامتي اور استحکام ہے.
اس موقع پر ترک سفير نے آيت اللہ رفسنجاني کے ساتھ اپني ملاقات پر خوشي کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ايران اور ترکي کے درميان علاقائي امن و امان کو بحال رکھنے کے لئے مسلسل تعاون ناگزير ہے.
رضا حاکان نے مزيد کہا کہ ترک حکومت نے ايران کے خلاف کسي بھي جارحانہ پاليسي اور آپشن کي ہميشہ مخالف کي ہے اور اس وقت ہم ايران جوہري معاہدے اور پابنديوں کا خاتمہ ہونے پر خوش ہيں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲