اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر مملکت 'حسن روحانی' نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تاریخی جوہری معاہدے سے نہ فقط مزاحمتی اقتصاد کے مقاصد کو بہتر طریقے سے حاصل کریں گے بلکہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم ہونے کے ساتھ معاشی اور اقتصادی مشکلات کو حل کرنے کی راہ بھی ہموار ہوجائے گی.
ان خيالات كا اظہار حجت الاسلام و المسلمين حسن روحاني نے جمعرات كے روز تہران ميں منعقد ہونے والے 13ويں مساجد كے عالمي دن اجلاس كے شركاء سے خطاب كرتے ہوئے كيا.
اس موقع پر انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ مسجد عبادت كي جگہ ہے اور اس ميں پارٹي يا سياست كي ہرگز گنجائش نہيں ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ عالمي برادري نے ايراني جوہري پروگرام كو تسليم كي ہے اور اقوام متحدہ كي سلامتي كونسل كي جانب سے بھي ايران مخالف قراردادوں كو بھي ختم كرديا گيا ہے اور اس پيشرفت سے ہماري جيت اور كامياب سفارتكاري عيان ہوتي ہے.
صدر مملكت نے كہا كہ دنيا كو اس وقت يكدلي اور يكجہتي كي ضرورت ہے، ہم اتحاد اور ہم آہنگي سے اپنے ہمسايوں اور وہ ممالك جو آج درد اور مشقت كا شكار ہوئے ہيں كی بھي مدد كرسكتے ہيں.
مساجد كانفرنس ميں شريك علمائے دين اور نماز جمعے كے اماموں كو مخاطب كرتے ہوئے مزيد كہا كہ مذہبي شخصيات پر قوم كو اكٹھي كرنے كي بھاري ذمہ داري ہے مگر ہميں صبر اور برداشت سے اپني مزاحمت جاري ركھني ہوگي.
ايران كي اعلي قومي سلامتي كونسل كے سربراہ نے مزيد كہا كہ اگر ہميں ملك كے مسائل كو حل كرنا ہے تو اپنے درميان وحدت، يكجتہي اور بھائي چارہ پيدا كرنا ہوگا.
صدر روحاني نے كہا كہ ايراني قوم كي حمايت اور رہبر معظم انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي كے ارشادات سے عالمي سطح پر ايران كي حيثيت مزيد مستحكم ہوئي ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ گزشتہ 12 سالوں سے بے بنياد بہتان اور دعووں سے ايران كے پرامن جوہري پروگرام كو ايك متنازع مسئلہ بنا ديا تھا مگر اب يہ حالات تبديل ہو كر ايران كي درست پاليسيوں پر تاييد كا مہر لگا ديا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲