اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابقعراق کے دارالحکومت بغداد میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے عراقی ہم منصب ابراہیم جعفری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے ہے، ان کے مقابلے کے لئے نہیں- انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ علاقے کا اصل چیلنج دہشت گردی ہے، کہا کہ ایران نے دہشت گردی اور شدت پسندی سے مقابلے اور علاقے کے مسائل کے حل کے لئے اپنے ہمسایہ ممالک کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھا رکھا ہے- ان کا کہنا تھا کہ شام، یمن اور عراق کے حالات کے بارے میں ایران کے مواقف ممکن ہے کہ بعض ہمسایہ ممالک کے برخلاف ہوں لیکن علاقے کے ہر ملک کی سلامتی ایران کی سلامتی شمار ہوتی ہے نیز اسلامی جمہوریہ ایران علاقے کے استحکام کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا- جواد ظریف نے تہران کی طرف سے دہشت گردی سے مقابلے میں عراقی حکومت اور عوام کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے عراق کے ساتھ علاقے میں شدت پسندی اور دہشت گردی سمیت مشترکہ خطروں سے مقابلے اور دوستی پر مبنی نئی بات چیت کا آغاز کیا ہے جو تمام ہمسایہ ممالک کے لئے بنیاد بن سکتی ہے- انہوں نے یمن پر سعودی عرب کے حملوں کے بارے میں کہا کہ یمنی عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی لاحاصل رہے گی- ایرانی وزیر خارجہ نے ویانا میں حاصل ہونے والی ایٹمی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا ایٹمی مسئلہ ایک من گھڑت مسئلہ تھا جو ختم ہو گیا اور سبھی کو اس کامیابی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے تعلقات اور علاقے کی تعمیر میں ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہئے- اس پریس کانفرنس میں عراقی وزیر خارجہ ابراہیم جعفری نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ داعش گروہ پوری دنیا کے لئےخطرہ ہے، کہا کہ عراقی عوام پورے اطمینان اور اعتماد کے ساتھ اس دہشت گرد گروہ کے خلاف حتمی کامیابی کی منتظر ہے-
.......
/169