اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ اور ایران کی ایٹمی مذکراتی ٹیم کے سینئر رکن عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے درمیانی فاصلے پر مار کرنے والے میزائلوں کے تجربے، ویانا میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہیں- عباس عراقچی نے العالم کے ساتھ گفتگو میں ایران کے میزائلوں سے مربوط مسئلے اور اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی قرارداد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد میں میزائل سے متعلق شق میں موجود عبارت سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہے کہ اس شق کی پابندی، ایران کے لئے ضروری نہیں ہے- ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے میزائلوں کی ڈیزائننگ اس طرح سے کی گئی ہے کہ وہ ایٹمی وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت نہیں رکھتے- اس لئے اس قسم کے میزائل، مکمل طور پر سلامتی کونسل کی نئی قرارداد میں شامل نہیں ہیں اور اس سلسلے میں کوئی تشویش بھی نہیں پائی جاتی- عباس عراقچی نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بارے میں ایک مجموعی نقطہ نگاہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں فریقین کی فتح ہوئی ہے اور دونوں کے مطالبات کم و بیش پورے ہوئے ہیں- انہوں نے کہا کہ ایران یہ چاہتا تھا کہ اپنی پرامن ایٹمی سرگرمیاں جاری رکھے اور اندرون ملک یورینیم کی افزودگی انجام دے اور سلامتی کونسل اس پروگرام کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے جبکہ ایسا ہی ہوا-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲