25 جولائی 2015 - 09:32
دمشق میں دھشتگردی کے خلاف جنگ پر بین الاقوامی کانفرنس+ تصاویر

اس کانفرنس میں حزب اللہ لبنان کے نائب سکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر کلچر علی جنتی کے علاوہ دیگر ممالک منجملہ روس، چین، ترکی، افغانستان، پاکستان، مصر، عراق، الجزائر، بحرین، اردن، سوڈان، سعودی عرب، تیونس، برطانیہ، جرمنی اور کویت سے بھی اہم شخصیات حاضر ہوئیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام کے دار الحکومت دمشق میں دھشتگردی کے خلاف جنگ کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز گزشتہ روز جمعہ کو ہوا جس میں ایران سمیت دنیا کے کئی ممالک سے ۱۳۰ اہم شخصیات نے شرکت کی۔
اس کانفرنس میں حزب اللہ لبنان کے نائب سکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر کلچر علی جنتی کے علاوہ دیگر ممالک منجملہ روس، چین، ترکی، افغانستان، پاکستان، مصر، عراق، الجزائر، بحرین، اردن، سوڈان، سعودی عرب، تیونس، برطانیہ، جرمنی اور کویت سے بھی اہم شخصیات حاضر ہوئیں۔
اس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے شام کے وزیر خارجہ نے ایران کے پانچ جمع ایک کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پانچ جمع ایک کا معاہدہ تاریخی معاہدہ ہے جس سے نہ صرف ایرانی عوام بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کو فائدہ حاصل ہو گا۔
شام کے وزير خارجہ ولید المعلم نے دمشق میں دہشت گردی کے مقابلہ کے بارے میں منعقد بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام کے بارے میں ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور شام کے بارے میں ایران کا مؤقف ثابت اور اٹل ہے جو رہبر انقلاب اسلامی نے عید فطر کے خطبوں میں واضح طور پر بیان کر دیا۔
ولیدالمعلم نے کہا کہ شامی حکومت اور عوام نے شام میں سرگرم دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور امریکی سرپرستی میں داعش مخالف اتحاد در حقیقت شکست سے دوچار ہوگیا ہے ، شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ داعش کے خلاف قائم اتحاد فرضی اتحاد ہے جو درحقیقت داعش کو مالی اور جنگی وسائل فراہم کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر دوسرے ممالک داعش کی مدد بند کردیں اورداعش کو شام میں داخل ہونے سے روک دیں تو شام میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا۔
حزب اللہ لبنان کے نائب سکریٹری جنرل نے شام کے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کے بحران کا راہ حل صرف اور صرف سیاسی گفتگو میں ہے شیخ قاسم نعیم نے کہا کہ شام کے سر پر منڈلا رہے اصلی خطرے کو ٹالنے اور اس ملک کو استحکام بخشنے میں سب سے زیادہ کردار ایران نے ادا کیا ہے اگر ایران کی حمایت نہ ہوتی تو نہ حزب اللہ ۲۰۰۶ کی جنگ میں کامیابی سے ہمکنار ہو پاتی نہ شام کو دھشتگردوں کے مقابلے میں کامیابی ملتی۔
انہوں نے کہا: امریکہ اور اس کے حامیوں نے تکفیری ٹولے داعش کو وجود دیا اور ہر طرح سے اس کی مدد کر کے اس گروہ کو علاقے میں تقویت دی اب جب کہ یہ وحشی حیوانوں کے طرح خود ان کے گلے بھی پڑ چکے ہیں تب بھی امریکہ اور ان کے حامی عبرت حاصل نہیں کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲