اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یمن پر سعودی عرب کے فوجی حملے سے پیدا ہونے والے سوالات میں سے ایک سوال یہ ہے کہ کیوں یہ ملک باوجودیکہ ان حملوں سے اپنے مبینہ اور غیر مبینہ مقاصد میں سے کسی مقصد تک نہیں پہنچ پایا ہے ،پھر بھی حملوں کو جاری رکھے ہوئے ہے وہ بھی ایسے حالات میں کہ جب ان حملوں سے اب اس کے جنگی جرائم کی فائل ہی موٹی ہو رہی ہے کہ بین الاقوامی اصول اور قوانین کی روشنی میں ہر حال میں اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جا سکتی ہے ۔
جو چیز اس دوران قابل غور ہے کہ سعودی عرب اب اقوام متحدہ کو بھی نہیں مانتا اور حالانکہ اس تنظیم کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے دوستانہ جنگ بندی کی پیش کش کی تھی کہ جس پر جمعے سے عمل ہونا تھا لیکن اس کے اعلان کے چند ہی گھنٹے بعد سعودی عرب نے اس کی خلاف ورزی کر دی اور اس ملک کی فوج کے کمانڈر نے کہ جو یمن کے خلاف جنگ کا ذمہ دار ہے اپنے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اقوام متحدہ نے جنگ بندی کے لیے ہم سے مشورہ نہیں کیا تھا ۔
یہ بالکل وہی ادبیات ہے کہ صہیونی حکومت غزہ یا لبنان پر حملے میں اس سے استفادہ کرتی تھی اور انسانیت کا لحاظ کیے بغیر اپنے حملوں کو جاری رکھتی تھی یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بناتی تھی ۔ اب سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کس کی پشت پناہی پر انسان سوز حملوں اور گستاخانہ موقف پر ڈٹا ہوا ہے اور اس سلسلے میں اس کے مقاصد کیا ہیں ؟
سعودی عرب کے یمن پر حملوں کے استمرار کے موئثر اسباب
ایک مؤثر عامل اس سلسلے میں یمن میں سعودی عرب کی فوجی مقصد کے حصول میں ناکامی ہے ،سعودی عرب سوچ رہا تھا کہ زیادہ سے زیادہ دو ہفتے میں یمن میں اپنے فوجی اور سیاسی مقاصد کو حاصل کر لے گا لیکن اب جبکہ اس حملے کو ۱۰۰ دن سے زیادہ ہو چکے ہیں سعودی عرب اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر پایا ہے ۔
سعودی عرب کا فوجی مقصد یمن کے اسلحہ کے انبار کو نابود کرنا تھا کہ جن میں سے کچھ ہتھیار خود اس ملک نے یمن کی فوج کو دیے تھے ،تا کہ وہ ان سے انصار اللہ کی رہبری میں جو انقلابی ہیں ان کی نابودی کے لیے استفادہ کرے ،لیکن جب سے فوج یمن کے عوام کی طرح انصار اللہ اور انقلابی کمیٹیوں کے ساتھ ملی ہے ،اس وقت سے سعودی عرب نے یمن کی فوج کے ہتھیاروں کے انبار کو نابود کرنے کا فیصلہ کیا اور حالانکہ وہ یہ دعوی کر رہے تھے کہ بہت سارے ہتھیاروں کے انبار منجملہ میزائل کے انبار کو اس نے نابود کر دیا ہے لیکن صوبہء العسیر میں فوجی ٹھکانے خالد اور صوبہء ریاض میں میزائل کے مرکز السلیل پر یمن کی فوج کے میزائلی حملوں نے بتا دیا کہ گر چہ سعودی عرب نے اپنی زمین سوز حکمت عملی کے چلتے ۱۷ ہزار سے زیادہ ہوائی حملوں کےذریعے ۳ لاکھ سے زیادہ گھر ، ۵۰۰ مساجد اور ۳۵۰ سے زیادہ مدارس اور سیکڑوں بنیادی تاسیسات کو تباہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن یمن کی فوج اور انصار اللہ کی دفاعی طاقت کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا پائے ہیں ۔
دوسری طرف سعودی عرب کو توقع تھی کہ یمن پر فوجی حملے کے ذریعے عبد ربہ منصور اور اپنے حمایت یافتہ دیگر افراد کی یمن واپسی یا کم سے عدن واپسی کا راستہ ہموار ہو جائے گا تا کہ اس علاقے میں وہ اپنی پسند کی حکومت بنا سکے لیکن جنگ کو ذریعہ بنانا باعث بنا کہ عبد ربہ منصور کی مستعفی اور فراری حکومت اپنی کم سے کم مقبولیت اور مشروعیت سے بھی یمن میں ہاتھ دھو بیٹھی ،اس طرح کہ موجوہ شواہد سے پہ چلتا ہے کہ اگر آج سیاسی گروہ عبد ربہ منصور ہادی کی یمن واپسی کے سلسلے میں موافقت بھی کر دیں تب بھی یمن کے عوام اسے ملک میں گھسنے نہیں دیں گے ۔ اس بنا پر سیاسی اور فوجی دونوں میدانوں میں ناکامی نے سعودی عرب کو مجبور کیا کہ اپنی گذشتہ ناکامیوں کی تلافی کرنے ،اور کامیابی حاصل کرنے کی امید میں اپنے حملوں کو جاری رکھے لیکن ان حملوں سے جو نتیجہ حاصل ہوا وہ ناکامی اور باطل دور میں گرفتار ہونے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔
سعودی عرب کے حملوں کے جاری رہنے کی ایک موئثر وجہ یہ ہے کہ عالمی برادری نے اس حملے کے خلاف کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا ہے اور سلامتی کونسل کہ جس کی ذمہ داری بین الاقوامی صلح و امن کی ہے وہ سعودی عرب کے مقابلے میں سیاسی احتیاط میں گرفتار ہے اور سعودی عرب کی سیاست کی کٹھ پتلی ہے اور دوسری انسان دوستانہ تنظیمیں اگر چہ اس کے آثار اور نتائج کو برملا کر رہی ہیں لیکن وہ کچھ کر نہیں سکتیں ایسے حالات میں سعودی عرب نے حملوں کو جاری رکھنے کا راستہ ہموار دیکھا ۔اس بنیاد پر سلامتی کونسل کی طرف سے سعودی عرب کی پیٹھ تھپتھپائے جانے کو ان حملوں کے جاری رہنے کو ایک موئثر سبب قرار دیا جا سکتا ہے ۔
اسی طرح اس چیز کے پیش نظر کہ سعودی عرب کے یمن پر فوجی حملوں کی ابتدا سے اور جو جنگی تاکتیک اختیار کی گئی ہے اس سے اس جنگ میں صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اس جنگ کا آغاز صہیونی حکومت کی تعلیمات کی روشنی میں کیا گیا ہے اور دوسری جانب اس جنگ کے آغاز کے بعد اس حکومت کے سعودی عرب کے ساتھ پنہانی روابط بتدریج آشکار ہوئے ہیں اور کم سے کم ایک کھلی ملاقات سعودی اور صہیونی حکام کے درمیان واشنگٹن میں ہوئی ہے اور طلال بن عبد العزیز نے قدس کی زیارت کے بہانے مقبوضہ فلسطین کا ایک علنی دورہ کیا ہے ،اس بنا پر کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ سعودی عرب جو یمن پر حملوں کو جاری رکھے ہوئے ہے ان میں اس کو صہیونی حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے ۔
آخر کار یہ کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب ابھی تک ملک عبد اللہ کی موت سے پیدا شدہ جانشینی کے بحران سے باہر نہیں نکل پایا ہے اور اس ملک میں عزل و نصب کا سلسلہ جاری ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تازہ کرسیء اقتدار تک پہنچے ہوئے حکام یمن کی جنگ کو اپنے اندرونی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک فرصت کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔
جو کچھ کہا گیا اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ سعودی عرب کے یمن پر حملوں کے جاری رہنے کے پیچھے چند اسباب ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی طریقے اپنانے کی ضرورت ہے ۔ البتہ ان میں سے کچھ اسباب کا تعلق سعودی عرب سے ہے کہ جس کی سیاست اور اس کے موقف میں تجدید کی کوئی امید نہیں ہے اور بعض عوامل سعودی عرب کی سیاست پر صہیونی حکومت کی سیاست کے نفوذ اور اس کی رہنمائی سے پیدا ہوئے ہیں کہ اس سلسلے میں بھی حالات میں تبدیلی کی کوئی امید نہیں ہے ۔اس دوران شاید توقع کی جا سکتی ہے کہ سلامتی کونسل سیاسی محتاط رویے سے بچتے ہوئے اس سلسلے میں کوئی کام کر سکے ، لیکن اگر چہ اب تک علاقے کے حالات نے سلامتی کونسل سے اس طرح کے کسی اقدام کے امکان کو سلب کر رکھا تھا ،لیکن امکان ہے کہ جوہری سمجھوتے سے حاصل شدہ سہولت سے اس سلسلے میں کوئی آسانی فراہم ہو سکے ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بین الاقوامی عمومی افکار خاص کر عربی اور اسلامی افکار کی ذمہ داری یمن پر سعودی عرب کے حملوں کے جاری رہنے سے پیدا ہونے والے حوادث کے بارے میں خاموشی کو توڑنے میں بہت موئثر ہے اور عمومی افکار کے دباو سے کام لینا بھی سلامتی کونسل اور کسی حد تک سعودی عرب کے رویے میں تبدیلی کے سلسلے میں موئثر واقع ہو سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲