اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کے ایک نامور صحافی اور اسکالر ’’ڈاکٹر کیون بیرٹ‘‘نے پریس ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ امریکہ اور اسکے اتحادی ایرانی فوجی سائٹس کے معائنہ کے بے جا مطالبات سے چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے ہونے والے جوہری معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں جوہری معاہدے کے آخری لمحات میں ایرانی فوجی سائیٹس کی مانگ کرکے اس معاہدے میں خلل ڈال کر اس سے سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہا ہےکہ ایران اور چھ عالمی طاقتیں ویانا میں ایک تاریخی معاہدے تک پہنچنے کیلئے اہم مذاکرات میں مصروف ہیں اور اس نازک موقعہ پر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے بے جا مطالبات انتہائی افسوس ناک ہیں ۔
انہوں نے کہاہےکہ اسرائیلی صیہونی لابی جسکا امریکی وائٹ ہاوس پر کافی دبدبہ ہے اصل میں امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ پر اکسارہی ہے اور مذاکرات میں امریکہ اوراسکے اتحادیوں کے بےجا مطالبے ایران کے خلاف مغربی اور خاص طور پر صیہونی جارحیت کی ایک واضح مثال ہے ۔
انہوں نے ایرانی فوجی سائیٹس کے معائینے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئےکہاہےکہ حقیقت میں پچھلی کچھ دہائیوں سے خاص کر 1979 ءکے اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور مغربی طاقتیں ایران کے خلاف جنگ کی منصوبہ بندی کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہاہےکہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے جس طرح عراق پر معائنہ کے حوالے سے حملہ کیا تھا ٹھیک اسی طرح وہ ایران پر یہی حربہ اپنا کر حملہ کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہاہےکہ صیہونی حکومت کو یہ تشویش لاحق ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے ہوا تو ایران بھی جوہری ہتھیار بنانے کے اہل ہوجائے گا ۔
واضح رہےکہ اسرائیل ،امریکہ اور دیگر دنیا کے ممالک کے پاس جوہری ہتھیاروں کی بہت بڑی کھپت موجود ہے جبکہ ایران دنیا کا وہ واحد ملک ہےجہاں رہبر معظم امام خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا فتویٰ جاری کیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲