اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ منگل کو جوہری مذاکرات کے آٹھویں دور کے چودھویں دن کے مشترکہ اقدام کے جامع منصوبے کی رف تحریر تیار کرنے کے لیے شہر ویانا کے ہوٹل پلہ کوبرگ میں اجلاس منعقد ہوا۔
اسلامی جمہوری ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کہ جو ہفتے کے دن گروپ پانچ جمع ایک میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ تبادلہء خیال کرنے کی خاطر ویانا کے سفر پر تھے اتوار کے دن پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت تہران واپس آئے اور ایک دن تہران میں رہنے کے بعد منگل کے دن ایٹمی انرجی کی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی اور ایران کے صدر کے نایب خاص حسین فریدون کے ہمراہ ویانا پہنچے ۔
ایک امریکی تجزیہ نگار" مارک گلن" نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے جوہری مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : امریکہ کو ڈر ایران کے انقلاب اور اس کی ثابت قدمی سے ہے جوہری ہتھیار سے نہیں ۔
گلن نے مزید کہا: امریکی مذاکرہ کاروں کی نظریں نیتن یاہو کے ہونٹوں پر ٹکی ہوئی ہیں ۔
مزید رپورٹ کے مطابق اس امریکی تحلیل گرنے آگے لکھا ہے : مذاکرات میں ایران کے ساتھ مغرب کا طریقہء کار سراسر دھوکہ اور فریب ہے ۔
گلن نے یاد دلایا : ایران ان تمام چیزوں کا مرکز ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جن سے ڈرتے ہیں ۔
قابل ذکر ہے کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای نے گذشتہ سال ماہ رمضان کے مہینے میں حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں ان سے امریکہ اور جمہوری اسلامیء ایران کی نسبت کے بارے میں فرمایا تھا ؛میں نے حال ہی میں ایک اچھی بات ایک جگہ پڑھی ہے ؛ امریکی حکومت کے ایک ماہر نے کہا ہے ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان دوستی ممکن ہے ۔لیکن جمہوری اسلامی اور امریکہ کے درمیان ممکن نہیں ہے ،یہ بات بالکل درست ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲