اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اعلی ایرانی رہنما آیت اللہ 'علی اکبر ہاشمی رفسنجانی' نے ایران اور مغرب کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی کی بھرپور حمایت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایرانی سنجیدہ اور ہوشیار قوم سفارتکاری کے میدان میں لڑنے والے اپنے جہادیوں کے ساتھ ساتھ رہے گی.
ان خيالات كا اظہار مجمع تشخيص مصلحت نظام كونسل كے سربراہ آيت اللہ رفسنجاني نے علما، دانشوروں اور مختلف يونيورسٹيوں سے تعلق ركھنے والے استاذوں كے ايك گروہ كے ساتھ ايك ملاقات ميں خطاب كرتے ہوئے كيا.
ايران كے پرامن جوہري پروگرام كا حوالہ ديتے ہوئے انہوں نے كہا كہ رہبر معظم انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ خامنہ اي كے فتوے كے مطابق ايران ہرگز جوہري ہتھيار بنانے كا خواہش نہيں ركھتا.
انہوں نے مزيد كہا كہ ہماري جوہري سرگرميوں كا مقصد ملك كو ترقي اور پيش رفت كي جانب گامزن كرنا ہے اور مزيد برآن ايران پرامن جوہري پروگرام كے ذريعے صحت اور زراعت ميں بھي زيادہ پيشرفت اور ترقي كرنے كي خواہش ركھتا ہے.
آيت اللہ ہاشمي رفسنجاني نے كہا كہ دنيا كے ممالك كو اب پتہ چل چكا ہے كہ اسلامي جمہوريہ ايران كے ساتھ صرف اور صرف منطق، احترام كي بنياد پر اور پرامن مذاكرات سے ہي مسائل كا حل ممكن ہوگا.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ ايراني حكمران قوم كے مفاد اور حقوق كے دفاع كے لئے ہميشہ ڈٹے رہيں گے.
امام حسن مجبتي عليہ السلال كے يوم ولادت كي مناسبت سے مباركباد پيش كرتے ہوئے انہوں نے كہا كہ شيعہ مسلمانوں كو اس بات كي علم ہے كہ امام حسن (ع) اور امام حسين (ع) كي مظلوميت ايك دوسرے كے مقابلے ميں كم نہيں اور دونوں معصومين عليھم السلام نے اپنے اپنے دور ميں مختلف صورتحال كي وجہ سے مظلوميت ميں رہے ہيں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲