29 جون 2015 - 02:58
انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا قرآن کریم کا بین الاقوامی دستور ہے

آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے اسلام کے اقتصادی اور اخلاقی دستورات کی جانب اشارہ رتے ہوئے فرمایا :" وَقُولُواْ لِلنَّاسِ حُسْناً " یہ قرآن کا بین الاقوامی دستور ہے جو مسلمانوں سے مخصوص نہیں ہے ۔اور داخلی اتحاد کے لحاظ سے اہل سنت کے درمیان جو کلامی اور فکری اختلاف ہے وہ ہمارے ان سےاختلاف کا باعث نہیں بننا چاہیے ،اہل کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ کہ جو وحی ،پیغمبر اور خدا کو مانتے ہیں بھی ایک طرح کا اتحاد ہو نا چاہیے ۔ان انسانوں کے ساتھ کہ جو اصل توحید کو مانتے ہیں بھی ایک عہد و پیمان ہونا چاہیے اور دوسروں کے ساتھ بھی انسانیت کی رعایت کرنا چاہیے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم کے جلیل القدر استادو مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے اپنے تفسیر کے درس میں سورہء مبارکہء شوری کی تفسیر کے دوران ایک ظریف نقطے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :دیگر کتابوں کے مقابلے میں قرآن کا تسلط اور رعب اس کتاب کے لانے والے کی دوسرے انبیاء پر بر تری کی علامت ہے ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امور کی تدبیر شریعت کے ساتھ مختلف نوعیت کی ہے ، تصریح کی :ممکن ہے کہ عقل ذاتی مسائل   اور اداروں سے متعلق مسائل کو منظم کرنے میں کارفرما ہو لیکن اسے عادت کہتے ہیں شریعت نہیں۔ اور عادت سے انسان جنت یا دوزخ کا حقدار نہیں بنتا بلکہ یہ اسلامی شریعت ہے کہ جس کی سوغات جنت ہے ۔

انہوں نے کہا :ابتدائی انسانوں کی تعداد کم تھی اور وہ سادہ زندگی بسر کرتے تھے کہ جس کی علامت یہ ہے کہ جب ایک تلخ حادثہ رونما ہوا اور آدم کے ایک بیٹے نے بھائی کو قتل کر دیا تو وہ یہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ اسکی لاش کا کیا کرے ۔

مفسر قرآن آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے تصریح کی :دین میں کچھ وقتی نوعیت کے مسائل ہوتے ہیں لیکن دین اور اسلام کے کچھ دستورات بین الاقوامی ہیں جو پوری دنیا کے لیے ہوتے ہیں ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ کمال شایستگی کے ساتھ پیش آنا ہے ،ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ چونکہ سامنے والا مسلمان نہیں ہے اس لیے اس سے حسن سلوک کے معیار کے مطابق بات نہیں کی جا سکتی۔ جی نہیں ،چونکہ وہ انسان ہے اور انسان کے ساتھ ادب اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے ۔

آپ نے کہا : ادب انسانی طرز عمل کی نزاکت میں سے ہے اور خدا نے بھی ہمیں حکم دیا ہے   کہ سامنے والا مسلمان ہے یا نہیں یہ دیکھنا آپ کا کام نہیں ہے کیونکہ اس کا حساب وکتاب خدا کرے گا نہ کہ آپ ۔

آیت  اللہ العظمی جوادی آملی نے اظہار کیا : لفظ ، "ناس" ، اور" شیئ" سے زیادہ جامع کوئی مفہوم نہیں ہے ،اور خدا نے  اس سلسلے میں ناس کے مفہوم کو بھی بیان کر دیا ہے ،اور ایک اور مقام پر فرمایا ہے کہ جو چیز لوگوں سے مربوط ہے وہ ان تک پہنچانے میں کمی نہ کرو اور انہی میں سے ایک درس و تحصیل ہے ۔

آپ نے فرمایا : اگر آپ کسی قسم کا مال برآمد کرنا چاہتے ہیں تو سب سے اچھا مال اور پاک میوہ صادر کریں اس لیے کہ وہ انسان ہیں اب وہ مومن ہیں یا بت پرست اس سے آپ کا کوئی سرو کار نہیں ہونا چاہیے ۔

مرجع تقلید آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے آگے چل  کریمن میں آل سعود کی جنایات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تصریح کی : خدا نے آل سعود اور اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم نے انسان سوز جرائم کئے ہیں ،لیکن جب تک ہدایت کے قابل ہو تو تمہاری  ہدایت ہونی چاہیے  اور تم کو اس کی تلافی کرنی چاہیے ،اور اگر ایسا نہ ہوا تو تلوار سے ان کی خبر لینا چاہیے اس لیے کہ آل سعود اور اسرائیل میں کوئی فرق نہیں ہے اس لیے کہ وہ ،انسانیت ،دین ،حق اور عدل و انصاف کے مخالف ہیں ۔

آپ نے فرمایا : خدا نے فرمایا ہے کہ اگر  مسلمان ہو تو اپنے دین پر عمل کرو اور اس میں اختلاف اور تفرقہ پیدا نہ کرو اس لیے کہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ دین میں اور کلام اور شریعت کے جزئیات میں اختلاف رکھتے ہوں لیکن خدا کا دین اختلاف کی جگہ نہیں ہے ۔

آپ نے مزید فرمایا : حضرت علی علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق کوئی بھی امت اختلاف سے کچھ حاصل نہیں کر پائی ہے اور آگے بھی کچھ نہیں حاصل کر پائے گی ؛ آگے چل کر آنحضرت فرماتے ہیں کہ میرے برابر کسی کے اندر بھی امت کے اتحاد کا شوق نہیں ہے اگر چہ سقیفہ میں میرا حق چھین لیا گیا اور مجھ پر ظلم کیا گیا ۔

آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے اظہار کیا : علم سے پہلے اختلاف با برکت ہے اس لیے کہ ہر ایک حق کی پہچان کرنے کی کوشش کرتا ہے ،ایک اختلاف بہت مقدس ہے اور  وہ ترازو کے پلڑوں کا اختلاف ہے کہ جن کی کوشش عدل ایجاد کرنے کی ہوتی ہے لیکن جب کم تولنے والا اور گرانفروش اس ترازو کے ساتھ چھیڑ چھار کرتا ہے تو یہ اختلاف علم کے بعد کا ہے جو بہت برا ہے ۔

آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے بیان کیا : اگر نظام کے سلسلے میں کسی کو بلا وجہ چھوڑ دیں تو آپ گمراہ ہیں اس لیے کہ انسان کو نہ خود نظام اسلامی  سے الگ ہو نا چاہیے اور نہ اس سے لوگوں کے الگ ہونے کا باعث بننا چاہیے ،اور ایک امت اسلامی اور نظام کو اس طرح کی جدائی ،مشکلات اور تفرقے کا بلا وجہ شکار نہیں بنانا چاہیے ۔

انہوں نے سورہء انبیاء کی آیت نمبر ۹۲ میں امت واحدہ کی بحث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : داخلی اتحاد کے لحاظ سے اہل سنت کے درمیان جو کلامی اور فکری اختلاف ہے وہ ہمارے ان سےاختلاف کا باعث نہیں بننا چاہیے ،اہل کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ کہ جو وحی ،پیغمبر اور خدا کو مانتے ہیں بھی ایک طرح کا اتحاد ہو نا چاہیے ۔ان انسانوں کے ساتھ کہ جو اصل توحید کو مانتے ہیں بھی ایک عہد و پیمان ہونا چاہیے اور دوسروں کے ساتھ بھی انسانیت کی رعایت کرنا چاہیے ۔

آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے اظہار کیا : انبیاء پہلے آئے تا کہ اس اندرونی دشمن کو نرم ترین صورت میں رام کریں تمام انبیاءکظم غیظ اور غصہ پینے کی خوبی رکھتے تھے،کظم غیظ اور غصہ پینا اندرونی دشمن کو رام کرتا ہے ۔

آپ نے مزید فرمایا : سلیمان کے بارے میں کہ جن کے پاس سلطنت تھی بھی ارشاد ہوا کہ ہم نے اس تانبے کی کان کو  کارون کے دریا  کی طرح ان کے لیے رواں کیا ؛ انہوں نے اس سے بہت فائدہ اٹھایا تاکہ لوگوں کے لیےزندگی کے وسایل تیار کریں  نہ کہ تیر اور شمشیر ؛جبکہ اس وقت او با ما اور دنیا کے ستمگر کہ جن کا قد اونچا ہوا ہے یہ سات کروڑ لاشوں پر کھڑے ہیں ۔ انہوں نے رہزنی کی ہے اور آج کہہ رہے ہیں کہ ہم طاقتور ہیں ۔آپ لوگوں نے کس تمدن اور کس انسانیت کو پیش کیا ہے ؟ آپ لوگوں نے صرف ہتھیاروں کا استعمال میں لایا ہے اور آج اپنا قد اونچا کیا ہے ۔

آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے آخر میں اظہار کیا : اسرائیل اور آل سعود میں کوئی فرق نہیں ہے ،کیا صدام اور آل سعود میں کوئی فرق تھا ؟ انہوں نے آٹھ سال ظلم ڈھائے اور ایران میں ہزاروں افراد شہید کیے لیکن خود نابود ہو گئے اور آج آل سعود خادم الحرمین ہونے کی دعویدار ہے لیکن ظلم ڈھا رہی ہے لیکن ان کے مقابلے میں ایک آزاد ملت ہے کہ نہ جس نے ظلم کیا ہے اور نہ ظلم کو برداشت کرے گی ۔    

۔۔۔۔۔۔۔

/169