اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حکومت اور پارلیمنٹ کے چھٹے مشترکہ اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم رہبر انقلاب اسلامی کے معین کردہ دائرہ کار میں آگے کی سمت قدم بڑھا رہی ہے- صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایٹمی مذاکرات حساس مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں کہا کہ مذاکرات کا مسئلہ تمام ایرانیوں سےمتعلق ہے اور ہمیں امید ہے کہ قوم کے حقوق کی بازیابی اور ملکی مفادات کی خاطر، پارلیمنٹ اور عوام کی حمایت سے ہم ایک قابل قبول نتیجے تک پہنچ جائیں گے۔ ایران کے صدر اور قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ یہ مذاکرات ایران کے اہم ترین سفارتی مذاکرات ہیں اور یہ اہم کام، رہبر انقلاب اسلامی کے رہنما ارشادات، قومی سلامتی کی اعلی کونسل کی سفارشات اور بنیادی آئین کے دائرے میں آگے بڑھ رہا ہے اور مزید بڑھتا رہے گا-
اس مشترکہ اجلاس میں ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے بھی کہا کہ مجھے امید ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایران کے ایٹمی مذاکرات میں مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے اور سب کو وزیر خارجہ اور مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہئے- ڈاکٹر لاریجانی نے خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی بڑی طاقتیں بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے بے تحاشا دولت لٹا رہی ہیں تاہم یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگ نے امریکہ کے تجزیوں اور تخمینوں کو درہم برہم کردیا ہے اور ان کی کمزوری سب پر عیاں ہوچکی ہے- ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ علاقے کے بعض ممالک اپنی پالیسیوں کے ذریعے خود کو اور دیگر ملکوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲