اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کی سیاسی کونسل کے رکن نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ یمنی گروہوں کے درمیان مذاکرات کسی ایسے ملک میں ہونے چاہئیں جس نے یمن کے خلاف جارحیت میں حصہ نہ لیا ہو-
یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کی سیاسی کونسل کے رکن ضیف اللہ شامی نے المیادین ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا ہے کہ عوامی تحریک انصار اللہ، ہر طرح کے مذاکرات کے بنیادی رکن کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یمن کا بحران اقوام متحدہ کی نگرانی میں یمنی گروہوں کے مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہئے اور یہ مذاکرات ایک ایسے ملک میں ہونے چاہئیں جس نے یمن کے خلاف جارحیت کا ارتکاب نہ کیا ہو- ضیف اللہ شامی نے بعض عرب اور یورپی ممالک کی جانب سے یمن کے بحران کو حل کئے جانے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یمن کے مستعفی اور سعودی عرب فرار ہو جانے والے سابق صدر منصور ہادی کے حق میں حالات سازگار بنانے کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا- ضیف اللہ شامی نے مزید کہا کہ دہشت گرد گروہ القاعدہ نے حضرت موت میں واقع المکلا کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور منصور ہادی اور سعودی عرب اس دہشت گرد گروہ کو ہتھیار فراہم کر رہے ہیں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲